Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #955
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.7K Views
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کے لکھنے کا درست طریقہ “إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ” ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کے لکھنے کا درست طریقہ "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ" ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کے لکھنے کا درست طریقہ “إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ” ہے ۔
(استفتاء)اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام مسٸلہ ذیل میں کہ آج کل واٹس ایپ اوردیگرسوشل میڈیا پر مومن کی موت کی خبر سن کر ”إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ“ لکھتے ہیں اور اسی رسم الخط کےساتھ تقریباً تمام اسٹیکرس بھی بنے ہوۓ ہیں، لیکن قرآن پاک میں ”رٰجعون“ کی راپر کھڑا زبر ہے الف نہیں، تو کیاالف کے رسم الخط کے ساتھ لکھنا درست ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ جانے انجانے لکھتے ہیں ان کے لیے حکم شرع کیا ہے؟ اور عوام میں جو معروف ہوگیا ہے اس کی اصلاح کے لیے ہم کیا کریں؟ بینوا توجروا ۔ المستفتی:ایوب رضا کلکتوی وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ میں ‘رَاجِعونَ’ یعنی را کے بعد حرف الف لکھنا جائز نہیں ۔ بلکہ اس کا درست رسم الخط یہ ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُون ۔ کیونکہ قرآن شریف کارسم الخط رسم عثمانی ہے،جسے بدل کر لکھنا ناجائز وگناہ ہے ۔ لہذا اگر قرآن پاک مکمل یا مختصر لکھنا مقصود ہوتو قرآن پاک کے رسم الخط کے مطابق لکھا جائےگا،واٹس اپ پہ لکھنا ہو یا کہیں اور ۔ جو لوگ رسم عثمانی کے خلاف لکھتے ہیں ان کی اصلاح ہو کہ وہ اس گناہ سے بچیں،نیز انہیں خود بھی مسئلہ معلوم کرنا چاہیے اور اسٹیکر صحیح رسم الخط کے مطابق بنایاجائے ۔ فتاوی شارح بخاری میں ہے:”قرآن مجید اسی رسم الخط میں لکھنا فرض ہے جس میں لکھا ہوا ہے، رسم الخط بدلنا حرام ہے ۔ ‘الصابرین’ قرآن میں ہر جگہ (ٱلصَّٰبِرِينَ) بے الف کے ہے، اس کو اسی طرح لکھنا فرض الف کے ساتھ الصابرین لکھنا حرام ۔ “(ج:١،ص:٦٢٨،دائرة البرکات، گھوسی، ضلع مئو) قرات کورس کے معرفة الرسوم میں ہے:”رسم خط قرآنی کی تعریف یہ ہے کہ کلام پاک کو موافق اس رسم کے لکھنا جس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بنابر اجماع صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم ثابت اور متقدمین سے منقول ہے، اسی وجہ سے اس رسم خط کی اتباع ائمہ اربعہ کے نزدیک واجب ہے ۔ “(پہلی فصل،ص:١٤٣،فاروقیہ بکڈپو،جامع مسجد دہلی) اسی میں ہے “:الف جمع مذكر سالم کثیر الوقوع ہرجگہ محذوف ہوگا جیسے ٱلْقَٰنِتِينَ، ٱلصَّٰدِقِينَ، ٱلصَّٰبِرِينَ وغیرہ…” (ایضاً، آٹھویں فصل،ص:١٥٣) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا
Kutubahu & Verified by:
<h3>إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کے لکھنے کا درست طریقہ "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ" ہے ۔</h3> (استفتاء)اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام مسٸلہ ذیل میں کہ آج کل واٹس ایپ اوردیگرسوشل میڈیا پر مومن کی موت کی خبر سن کر ”إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ“ لکھتے ہیں اور اسی رسم الخط کےساتھ تقریباً تمام اسٹیکرس بھی بنے ہوۓ ہیں، لیکن قرآن پاک میں ”رٰجعون“ کی راپر کھڑا زبر ہے الف نہیں، تو کیاالف کے رسم الخط کے ساتھ لکھنا درست ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ جانے انجانے لکھتے ہیں ان کے لیے حکم شرع کیا ہے؟ اور عوام میں جو معروف ہوگیا ہے اس کی اصلاح کے لیے ہم کیا کریں؟ بینوا توجروا ۔ المستفتی:ایوب رضا کلکتوی وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ میں 'رَاجِعونَ' یعنی را کے بعد حرف الف لکھنا جائز نہیں ۔ بلکہ اس کا درست رسم الخط یہ ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُون ۔ کیونکہ قرآن شریف کارسم الخط رسم عثمانی ہے،جسے بدل کر لکھنا ناجائز وگناہ ہے ۔ لہذا اگر قرآن پاک مکمل یا مختصر لکھنا مقصود ہوتو قرآن پاک کے رسم الخط کے مطابق لکھا جائےگا،واٹس اپ پہ لکھنا ہو یا کہیں اور ۔ جو لوگ رسم عثمانی کے خلاف لکھتے ہیں ان کی اصلاح ہو کہ وہ اس گناہ سے بچیں،نیز انہیں خود بھی مسئلہ معلوم کرنا چاہیے اور اسٹیکر صحیح رسم الخط کے مطابق بنایاجائے ۔ فتاوی شارح بخاری میں ہے:"قرآن مجید اسی رسم الخط میں لکھنا فرض ہے جس میں لکھا ہوا ہے، رسم الخط بدلنا حرام ہے ۔ 'الصابرین' قرآن میں ہر جگہ (ٱلصَّٰبِرِينَ) بے الف کے ہے، اس کو اسی طرح لکھنا فرض الف کے ساتھ الصابرین لکھنا حرام ۔ "(ج:١،ص:٦٢٨،دائرة البرکات، گھوسی، ضلع مئو) قرات کورس کے معرفة الرسوم میں ہے:"رسم خط قرآنی کی تعریف یہ ہے کہ کلام پاک کو موافق اس رسم کے لکھنا جس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بنابر اجماع صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم ثابت اور متقدمین سے منقول ہے، اسی وجہ سے اس رسم خط کی اتباع ائمہ اربعہ کے نزدیک واجب ہے ۔ "(پہلی فصل،ص:١٤٣،فاروقیہ بکڈپو،جامع مسجد دہلی) اسی میں ہے ":الف جمع مذكر سالم کثیر الوقوع ہرجگہ محذوف ہوگا جیسے ٱلْقَٰنِتِينَ، ٱلصَّٰدِقِينَ، ٱلصَّٰبِرِينَ وغیرہ..." (ایضاً، آٹھویں فصل،ص:١٥٣) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...