Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #959
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.2K Views
دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں بیوی کو طلاق دیا اور اسلام کو برا کہا تو کیا حکم ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں بیوی کو طلاق دیا اور اسلام کو برا کہا تو کیا حکم ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں بیوی کو طلاق دیا اور اسلام کو برا کہا تو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید جو کہ ایک سائنس ٹیچر ہے جس کی تقریبا چار یا پانچ سال سے دماغی حالت کبھی کبھی ٹھیک نہیں رہتی ہے ۔ وہ فی الحال رام منوہر لوہیا ہاسپٹل سے علاج کروا رہے ہیں . جب ان کا دماغی توازن خراب ہوتا ہے تو وہ ایسی حالت میں اسلام کےخلاف باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ مثلا یہ کہ ہم نماز کو نہیں مانتے ، قرآن کو نہیں مانتے ۔ اور بہت سی خلاف شرع باتیں کرتے ہیں اور انہوں نے ایسی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق ایک ساتھ دی ہے ۔ لہذا ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا شخص مسلمان ہے کہ نہیں؟ اور اس کی بیوی پر طلاق پڑی کہ نہیں ؟ اور ایسے شخص سے مسلمانوں کا میل جول رکھنا کیسا ہے؟ ایسے شخص پر شریعت کا جو بھی حکم ہو واضح فرمائیں ۔ بینوا وتوجروا ۔ المستفتی محمد یونس مقام و پوسٹ مروٹیا بابو ضلع بستی ۲۳فروری ۲۰۲۰ء باسمه تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوھابـــــــ اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں خلاف شرع باتیں کرتا ہے جیسا کہ صورت مسئولہ سے یہی ظاہر ہے تو زید ایسی حالت میں خلاف شرع باتیں کرنے سے کافر نہ ہو گا بلکہ مسلمان ہی رہے گا ۔ کیونکہ شریعت مطہرہ اس طرح کے لوگوں مثلا سونے والے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے ۔ اور نابالغ سے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے ۔ اور دیوانہ سے جب تک کہ وہ صحیح العقل نہ ہو جائے ۔ کوئی مواخذہ نہیں فرماتی ہے ۔ مشکاۃ شریف میں ہے“رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی یستیقظ و عن الصبی حتی یبلغ و عن المعتوہ حتى یعقل” (مشکوۃ ص۲۸۴) اور مراۃالمناجیح میں ہے “حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ،سوتا ہوا آدمی اور دیوانہ مرفوع العقل ہیں ان پر شرعی احکام جاری نہیں” (ج ۵ ص ۱۱۷) اور زید نے دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق بھی دی ہے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے” لا یقع طلاق الصبی والمجنون والمدھوش ھکذا فی فتح القدیر و کذالک المعتوہ لا یقع طلاقه أیضا و ھذا اذا کان فی حالة العته “ (ج ۱ص ۳۵۳) اور مراۃ المناجیح میں ہے “لہذا اگر یہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو واقع نہ ہوگی ۔ اسى لئے فقہا فرماتے ہیں کہ بچہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ یوں ہی سوتے میں اگر کوئی طلاق دے دے یا دیوانگی میں تو بھی طلاق نہیں ہوتی” ۔ (ج۵ ص ۱۱۷) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ زید ایسی حالت میں خلاف شرع بات کہنے سے کافر نہ ہوگا ۔ لیکن اگر زید نے ہوش و حواس کی درستگی میں الفاظ کفر بکے ہوں تو ضرور وہ کافر ہو جائے گا ۔ اگر حالت جنون میں طلاق نہ دی ہو تو ضرور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی ۔ اور اس سے بیوی کا برتاؤ کرنا حرام ہوگا ۔ اگر مزید پاگل پن کا بہانہ کرے گا تو یہ بہانہ اس کو اللہ رب العزت کی سزا سے نہ بچا سکے گا ۔ لیکن جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ زید جنون کا بہانہ کر رہا ہے اس سے مسلمانوں کے میل جول کو منع نہیں کیا جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبہ محمدارشاد رضاعلیمی غفرلہ،المتخصص فی الفقه الاسلامى بدار العلوم العليميه ۱/رجب المرجب ۱۴۴۱ھ مطابقّ۲۶/فروری ۲۰۲۰ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h3>دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں بیوی کو طلاق دیا اور اسلام کو برا کہا تو کیا حکم ہے ؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید جو کہ ایک سائنس ٹیچر ہے جس کی تقریبا چار یا پانچ سال سے دماغی حالت کبھی کبھی ٹھیک نہیں رہتی ہے ۔ وہ فی الحال رام منوہر لوہیا ہاسپٹل سے علاج کروا رہے ہیں . جب ان کا دماغی توازن خراب ہوتا ہے تو وہ ایسی حالت میں اسلام کےخلاف باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ مثلا یہ کہ ہم نماز کو نہیں مانتے ، قرآن کو نہیں مانتے ۔ اور بہت سی خلاف شرع باتیں کرتے ہیں اور انہوں نے ایسی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق ایک ساتھ دی ہے ۔ لہذا ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا شخص مسلمان ہے کہ نہیں؟ اور اس کی بیوی پر طلاق پڑی کہ نہیں ؟ اور ایسے شخص سے مسلمانوں کا میل جول رکھنا کیسا ہے؟ ایسے شخص پر شریعت کا جو بھی حکم ہو واضح فرمائیں ۔ بینوا وتوجروا ۔ المستفتی محمد یونس مقام و پوسٹ مروٹیا بابو ضلع بستی ۲۳فروری ۲۰۲۰ء باسمه تعالی وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھابـــــــ</strong></span> اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں خلاف شرع باتیں کرتا ہے جیسا کہ صورت مسئولہ سے یہی ظاہر ہے تو زید ایسی حالت میں خلاف شرع باتیں کرنے سے کافر نہ ہو گا بلکہ مسلمان ہی رہے گا ۔ کیونکہ شریعت مطہرہ اس طرح کے لوگوں مثلا سونے والے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے ۔ اور نابالغ سے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے ۔ اور دیوانہ سے جب تک کہ وہ صحیح العقل نہ ہو جائے ۔ کوئی مواخذہ نہیں فرماتی ہے ۔ مشکاۃ شریف میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی یستیقظ و عن الصبی حتی یبلغ و عن المعتوہ حتى یعقل"</strong></span> (مشکوۃ ص۲۸۴) اور مراۃالمناجیح میں ہے "حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ،سوتا ہوا آدمی اور دیوانہ مرفوع العقل ہیں ان پر شرعی احکام جاری نہیں" (ج ۵ ص ۱۱۷) اور زید نے دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق بھی دی ہے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے"<span style="color: #ff0000;"><strong> لا یقع طلاق الصبی والمجنون والمدھوش ھکذا فی فتح القدیر و کذالک المعتوہ لا یقع طلاقه أیضا و ھذا اذا کان فی حالة العته "</strong></span> (ج ۱ص ۳۵۳) اور مراۃ المناجیح میں ہے "لہذا اگر یہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو واقع نہ ہوگی ۔ اسى لئے فقہا فرماتے ہیں کہ بچہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ یوں ہی سوتے میں اگر کوئی طلاق دے دے یا دیوانگی میں تو بھی طلاق نہیں ہوتی" ۔ (ج۵ ص ۱۱۷) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ زید ایسی حالت میں خلاف شرع بات کہنے سے کافر نہ ہوگا ۔ لیکن اگر زید نے ہوش و حواس کی درستگی میں الفاظ کفر بکے ہوں تو ضرور وہ کافر ہو جائے گا ۔ اگر حالت جنون میں طلاق نہ دی ہو تو ضرور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی ۔ اور اس سے بیوی کا برتاؤ کرنا حرام ہوگا ۔ اگر مزید پاگل پن کا بہانہ کرے گا تو یہ بہانہ اس کو اللہ رب العزت کی سزا سے نہ بچا سکے گا ۔ لیکن جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ زید جنون کا بہانہ کر رہا ہے اس سے مسلمانوں کے میل جول کو منع نہیں کیا جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمدارشاد رضاعلیمی غفرلہ،المتخصص فی الفقه الاسلامى بدار العلوم العليميه</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۱/رجب المرجب ۱۴۴۱ھ مطابقّ۲۶/فروری ۲۰۲۰ء </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...