01
The questionSawaal
اصل سوالحالت نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟ / نماز کے مسائل
02
The responseAl-Jawab
حالت نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ حضرت ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں برائے کرم جواب ضرور دیں ۔ سوال یہ ہے کہ نماز میں بار بار کھجلانا کیسا ہے؟ کیا اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے یا سجدہ سہو کرنا پڑے گا ۔ سائل : شہاب الدین. ضلع پورنیہ بہار وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابـــــــــــ نماز میں ایک رکن میں تین عدد سے زیادہ کھجلانا مفسد نماز ہے ۔ ہاں اگر ایک ہی بار ہاتھ کو رکھ کر چند بار کھجایا تو مفسد نماز نہیں کیونکہ یہ ایک ہی بار کھجلانے میں شامل ہے ۔ بہار شریعت میں ہے: “ایک رکن میں تین بار کھجانے سے نماز جاتی رہتی ہے، یعنی یوں کہ کھجا کر ہاتھ ہٹا لیا پھر کھجایا پھر ہاتھ ہٹالیا وعلیٰ ہذا القیاس اور اگر ایک بار ہاتھ رکھ کر چند مرتبہ حرکت دی تو ایک ہی مرتبہ کھجانا کہا جائے گا۔” (ج۱ ح۳ ص۶۱۴ مکتبہ المدینہ کراچی) اور فتاوی فیض الرسول میں ہے : “ایک قیام میں تین بار کھجلانے سے نمازجاتی رھےگی ۔یعنی اس طرح کہ کھجاکر ہاتھ ہٹالیا پھر کھجایا پھر ہٹالیا اسی طرح تین بار کیا ۔ اور اگر ایک مرتبہ ھاتھ رکھ کر کئ بار حرکت دی تو یہ ایک ھی مرتبہ کھجلانا ھوا اس صورت میں نماز فاسد نہ ھوگی ۔ بحوالہ فتاوی عالمگیری جلداول مطبوعہ مصر صفحہ ٩٧ میں ھے ،، اذا حک ثلاثا فی رکن واحد تفسد صلاته ھٰذا اذا رفع یدہ فی کل مرة ۔ اما اذا لم یر فع فی کل مرة فلاتفسد کذا فی الخلاصة ۔(فتاوی فیض الرسول جلداول باب ما یفسد الصلاة صفحہ ٣٥٠)۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــــہ: فقیر محمد اشفاق عطاری 26 دسمبر 2021 عیسوی بروز اتوار
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.