Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #972 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.8K Views

حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال عرض یہ ہے کہ حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل : عبدالکلام ۔ اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی وعلیکم السلام باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب حیض ونفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا جائز ہے،ان دنوں میں صرف ناف سے گھٹنوں تک نفع اٹھانا ممنوع ہے ۔ ان کے علاوہ سے کسی طرح کا نفع اٹھانا ممنوع نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے (ومنها) حرمة الجماع.هكذا في النهاية والكفاية- وله ان يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند ابي حنيفة وابي يوسف.هكذا في السراج الوهاج” (ج ۱ ص ۳۹/ المكتبة الشاملة الحديثة) اور بہار شریعت میں ہے “ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں-یوں ہی بوس وکنار بھی جائز ہے” (ج ۱ ح ۲ ص ۳۸۲۔مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ،نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر۔ ۲۲/جمادی الاولی ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷/دسمبر ۲۰۲۱ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h3>حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟</h3> السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال عرض یہ ہے کہ حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل : عبدالکلام ۔ اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی وعلیکم السلام باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب</strong></span> حیض ونفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا جائز ہے،ان دنوں میں صرف ناف سے گھٹنوں تک نفع اٹھانا ممنوع ہے ۔ ان کے علاوہ سے کسی طرح کا نفع اٹھانا ممنوع نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے (<span style="color: #ff0000;"><strong>ومنها) حرمة الجماع.هكذا في النهاية والكفاية- وله ان يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند ابي حنيفة وابي يوسف.هكذا في السراج الوهاج"</strong></span> (ج ۱ ص ۳۹/ المكتبة الشاملة الحديثة) اور بہار شریعت میں ہے "ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں-یوں ہی بوس وکنار بھی جائز ہے" (ج ۱ ح ۲ ص ۳۸۲۔مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ،نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر۔ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲۲/جمادی الاولی ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷/دسمبر ۲۰۲۱ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...