صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1035 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

آدم علیہ السلام کا گندم کھانا کیا خطا ہے یا ان کی لغزش ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,468

سوال (Question):

آدم علیہ السلام کا گندم کھانا کیا خطا ہے یا ان کی لغزش ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

آدم علیہ السلام کا گندم کھانا کیا خطا ہے یا ان کی لغزش ؟

سوال : ایک وہابی عالم ہے اور بکر ایک سنی عالم ہے اور وہ دونوں ایک مجلس عام میں مجتمع ہیں. اور ان کے درمیان بحث شروع ہوگئی حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام کے گندم خوری کے معاملے میں تو زید نے کہا کہ آدم علیہ السلام کا گندم کھانا یہ ان کی لغزش ہے تو بکر نے جواب میں کہا کہ نہیں نہیں جناب والا یہ حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش نہیں کہی جائے گی اس لیے کہ انبیاء کرام سے لغزش اور غلطی ہونا محال ہے. پھر زید نے اعتراض کیا کہ آخر اس کو کیا کہا جائے؟ تو بکر نے کہا کہ یہ خطاے ایزدی ہے. تو زید نے کہا مولانا بکر صاحب! سمجھ کر بول رہے ہیں تو بکر نے کہا کہ ہاں میں سمجھتا ہوں اس میں اضافت مقلوبی ہے . لہذا حضور والا سے گزارش ہے کہ زید و بکر پر شریعت کے کیا احکام جاری ہوں گے. مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ حضرت آدم علیہ السلام کے گندم کھانے کو خطائے ایز دی کہنا کفر ہے. بکر پر توبہ، تجدید ایمان لازم ہے. بیوی والا ہو تو تجدید نکاح کرے. اور مرید ہو تو تجدید بیعت کرے اور لفظ خطائے ایزدی میں اضافت مقلوبی نہیں ہے بلکہ ترکیب وصفی ہے یعنی خطاے موصوف اور ایزدی صفت ہے جیسے کہ عصائے موسی میں. واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاوی فیض الرسول ص 26

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh