Fatwa #1684
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,106
سوال (Question):
آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ بعدِسلام عرض یہ ہیکہ میں نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل و کرم سے ایک کتاب کی دوکان کھولی ہے جس میں کچھ آنلائن کام بھی کررہا ہوں جیسے آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنا اور پیسہ جمع کرنا اور (منی ٹرانسفر) پیسہ بھیجنا اور ریلوے ٹکٹ نکالنا ایسے ہی بہت سے کام ہیں- تو میرا سوال یہ ہیکہ جیسا کہ گاؤں یا شہر وغیرہ میں عام طور پر دوکان یا چھوٹے بینک سے پیسہ نکالنے پر ہر ایک ہزار پر 10روپئے یا کچھ ایکسٹرا چارج یا کمیشن لیا جاتا ہے ایسے اور بھی آنلائن کاموں میں جو بھی ایکسٹرا کمیشن یا چارج لیا جاتا ہے کیا زید کا یہ ہر ایک ہزار پر ایکسٹرا کمیشن یا چارج لینا جائز و درست ہےـ آپ مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں بڑی نوازش ہوگی- المستفتی:ابو اسامہ قادری مٹیسر نانکار سدھارتھ نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ وعليكم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔صورت مذکورہ میں آدھارکارڈ یا ایٹیم کارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بطور اجرت لیاجاتا ہے جس طرح آج کل کچھ پرائیوٹ منی بینک اس طرح کا کام کرتی ہیں اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگوں سے آدھارکارڈ کے ذریعہ ان کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کر اپنے یا کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں ڈالتے ہیں جس پر کچھ خرچ بھی آتا ہے پھر وہ پیسے اپنے پاس سے گراہک کو ادا کردیتے ہیں جس پر وہ لوگوں سے متعینہ فیس وصول کرتے ہیں اس لحاظ سے ان کی حیثیت اجیر مشترک کی ہوتی ہے جو ایک وقت میں مختلف لوگوں کے کام کرتے ہیں اور اپنے کام وخرچ کے لحاظ سے مزدوری پاتے ہیں جیسے دھوبی، درزی وغیرہ. ہدایہ میں ہے”الاجارۃ قد تکون عقدا علی العمل کاستئجار القصار والخیاط ولا بد أن یکون العمل معلوما و ذلك فی اجیر المشترك” اھ(ج٣ص٢٧٨،کتاب الاجارات) بنایہ میں ہے”انما الاجارۃ علی الأعمال فکاستئجار الاسکاف والقصار والصباغ وسائر من یشترط علیہ العمل فی سائر الأعمال من حمل الأشياء من موضع ونحوہ”اھ(ج١٠ص٢٣٠ کتاب الاجارات، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) اسی طرح آن لائن دیگر کاموں پر بھی جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بھی بطور اجرت ہی لیا جاتا ہے اور دکاندار اپنے کام کی اجرت ہی لیتا ہے. لہذا آدھارکارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے یا دیگر آن لائن کاموں پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ جائز ہے کہ یہ حقیقت میں اجارہ ہے اور وہ ایک اجیر مشترک کی دکان ہے جو بغرض تحصل اجرت کھولی گئی ہے۔ وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی ٢٩/شعبان المعظم ١٤٤٣ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9