Fatwa #2050
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
آسام و میزورم تنازعہ–اک لمحئہ فکریہ مزمل حسین علیمیؔ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,335
سوال (Question):
آسام و میزورم تنازعہ--اک لمحئہ فکریہ مزمل حسین علیمیؔ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
آسام و میزورم تنازعہ–اک لمحئہ فکریہ
مزمل حسین علیمیؔ ڈائریکٹر: علیمیؔ اکیڈمی آسام 6307951967 ہندوستان جو کسی تعارف کا محتاج نہیں دنیا کی نظر میں ایک انوکھا ملک ہے-یہ وہی ملک ہے جسے دنیا “سونے کی چڑیا” کے نام سے جانتی اور پہچانتی تھی۔ اس کی شمالی مشرق کی آٹھ سرحدی ریاستیں آسام، میزورم، اروناچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، تریپورہ، اور سکّیم جنھیں “North East” کہے جاتے ہیں۔ ان میں سات ریاستوں کو Seven sisters states (SSS) اور سکّیم ان ساتوں بہنوں کا ایک لوتا بھائی ہے۔ ان ریاستوں کے لوگ مذہب و ثقافت، تعلیم وتربیت، قد و قامت، رنگ و روپ، خورد و نوش، رہن سہن اور بول چال وغیرہ، ہر اعتبار سے ایک دوسروں سے مختلف ہیں۔آسام اور میزورم
آسام کے متعلق میں نے اپنی تحریر ( آسام، بی جے پی حکومت، اور مسلمان) میں مختصر تعارف پیش کیا ہےوہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے،اب میزورم سے متعلق کچھ ضروری باتیں عرض کرتا ہوں – میزورم (Mizoram) Mi یعنی انسان، Zo پہاڑ/ پہاڑی علاقے، اور Ram زمین یعنی میزورم ‘ عوام کی پہاڑی سرزمین۔ یہ ہندوستان کی دلکش پہاڑی، ہری بھری زمینیں، سرسبز و شاداب علاقے، خوشنما فضائیں، اور پرامن انسان والی ایک خوبصورت ریاست ہے، جو دیگر ہندوستانی ریاستیں آسام ، تریپورہ، اور منی پور سے گھری ہوئی ہے۔ اور اس کی پڑوسی ملک بنگلہ دیش و میانمار ہیں۔ یہ ریاست 20/ فروری 1987ء کو ہندوستان کی نئی 23 ویں ریاست تشکیل پائی جس کی راجدھانی آئیزل ہے۔ 1972ء تک میزورم آسام کا حصہ تھا، یہ ملک کی دوسری سب سے کم آبادی والی ریاست ہے۔ ( اور سکَیم پہلی ہے) میزو عوام 16 ویں صدی میں اس علاقے میں آباد ہوئے۔آسام، میزورم تنازعہ کیا ہے؟
1987ء کو جب میزورم کو آسام سے الگ کرکے ایک نئی ریاست بنائی گئی، تب سرحدیں ٹھیک ٹھیک تقسیم نہیں ہوئی تھیں۔ آسام ، میزورم سرحدی تنازعہ نے دونوں ریاستوں کے بھائی چارے کو خوفناک و تشویشناک بنادیا ہے۔جب سے میزورم نئی ریاست بنی اس وقت سے ہنوز کئی جنگیں ہوئیں درجنوں فوجیں شہید ہوئیں- سیکڑوں افراد زخمی ہوئے کتنوں کی موت ہوئی مگر اب تک کوئی حل نہیں نکلا۔ آسام، میزورم کے مابین سرحدی تنازعہ کی بنیادی زمین لائلا پور علاقے میں واقع ہے، جو کہ 509 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ یہ ایک جنگلاتی علاقہ ہے، جو آسام اور میزورم کو تقسیم کرتا ہے۔ یہ خطہ آسام کے تین اضلاع کچاڑ، ہائلاکنڈی اور کریم گنج ہوتے ہوے میزورم تک پھیلا ہوا ہے۔ اور یہی خطہ تنازعہ کا منبع ہے۔ دونوں ریاستیں ان جنگلات پر قابض ہونے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ہیں۔ ہر کوئی اپنا حق جتاتا ہے۔ آسام کا کہنا ہے کہ یہ خطہ آسام کا تھا اور آسام کا ہی رہے گا، جبکہ میزورم اس پر اپنا حق جتاتے ہوئے قابض ہونا چاہتا ہے۔ جس کے نتائج میں دونوں ریاستوں کے بیچ نہایت ہی خوفناک جنگ کا ماحول بن جاتا ہے۔حکومت ہند کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے، تنازعات دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں دونوں ہماری ہی ریاست ہیں دونوں کا نقصان ہمارا نقصان ہے -ان کی ترقی ملک کی ترقی ہے- آسام چونکہ میزورم سے طاقتور ہے اور میزورم ایک چھوٹی ریاست ہے جو خود کفیل نہیں ہے وہ حکومت ہند پر منحصر ہے۔ تمام اشیاء ضروریہ کی رسائی آسام کے راستے سے ہی ہوتی ہے۔ آسام کے تعاون کے بغیر میزورم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اور میزورم کو نقصان پہنچانے سے آسام کا کچھ فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ میزورم ہمارا چھوٹا بھائی ہے اس پر مہربانی کی ایک ہی صورت ہے دونوں ریاستوں کو کسی معاہدے پر متفق ہونا۔ اخیر میں میں حکومت آسام اور حکومت ہند سے گزارش کرتا ہوں کہ آسام اور میزورم کے درمیان آپسی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈا جائے تاکہ ملک ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچے اور آپسی اتحاد ومحبت سے وطن عزیز کا وقار واعتماد بلند ہوتا رہے-
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9