آسماں مہکا ، زمینوں کا بَدَن مہکا دیا
آمدِ سرکار نے سارا گگن مہکا دیا
سوال (Question):
آسماں مہکا ، زمینوں کا بَدَن مہکا دیا
آمدِ سرکار نے سارا گگن مہکا دیا
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
میلاد کی مہک
آسماں مہکا ، زمینوں کا بَدَن مہکا دیا
آمدِ سرکار نے سارا گگن مہکا دیا
بارہویں تاریخ سے بدلی فَضاے کائنات
میرے آقا نے ہواؤں کا چَلَن مہکا دیا
ظلم کا ہر ضابطہ ، تبدیل کر کے عدل سے
ِرحمتِ عالَم نے دستورِ زَمَن مہکا دیا
قلبِ عالَم کی ہے دھڑکن ، عید میلاد النبی
اِس خوشی نے ، ہر چراغِ انجُمن مہکا دیا
گُل کیے تقسیم یوں باغِ ربیع النور نے
روشنی مہکی اندھیروں کا وطن مہکا دیا
مٹ گئ ہر اک شِکَن ، پیشانئِ مظلوم کی
مصطفیٰ نے آ کے ہر زخمِ کُہَن مہکا دیا
شَر ہوا بیدم ، تو شیطانی نظر ہے اشکبار
خیر کی آمد نے ایمانی چَمن مہکا دیا
ایسا خوشبودار ہے جلوہ نبی کے عشق کا
جِس میں آیا ، اُس کی جاں کا پَیرَہَن مہکا دیا
زُلفِ مہتابِ رِسالت کُھل گئ جب رات کو
چاندنی مہکی ، قمر کا بانکپن مہکا دیا
واہ اے یادِ نبی ، تیری تَپِش ہے لاجواب
آگ کو کر کے چمن ، رَنج و مِحَن مہکادیا
کام آیا مصطفٰی کا عشق ، بعدِ موت بھی
قبر مہکائ ، غلاموں کا کفن مہکادیا
اعلٰی حضرت کے کمالِ عشق پر لاکھوں سلام
اُس گُلِ حکمت نے گلزارِ سخن مہکا دیا
نجد کے شیطاں ہیں میلاد النبی پرغمزدہ
اور خوشیوں نے دلِ اہلِ سُنن مہکا دیا
خود نبی نے کی ہے اہلِ نعت کی عزت بلند
اپنی قربت دے کے ہستی کا چمن مہکا دیا
جِن کی خوشبو سے معطر ہو گئے نسلوں کے پھول
اُن کی مِدحت نے فریدی ، میرا فن مہکا دیا
از فریدی صدیقی مصباحی بارہ بنکوی، نوری مسجد، مسقط عمان
+96899633908