صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1749 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ادھار دے کر نفع لینا سود ہے از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,109

سوال (Question):

ادھار دے کر نفع لینا سود ہے از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ادھار دے کر نفع لینا سود ہے

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته محترم مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ: ایک شخص نے مکان خرید لیا اور قیمت کی ادائیگی مکمل نہیں کی، بلکہ اس میں 4 لاکھ روپے باقی تھے، جس کی ادائیگی کے لئے مدت متعین کی گئی، ابھی اس نے وہ مکان آگے فروخت کردیا ادھار پر، اب چونکہ وہ متعینہ مدت مکمل ہوگئی، لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہے لہذا اس نے کسی اور سے 4 لاکھ اس غرض سے لئے کہ میں نے جو مکان آگے بیچ دیا ہےاس میں جتنا منافع آئے گا آپ کا بھی اس میں اپنی رقم کے حساب سے منافع ہوگا۔ کیا اس صورت میں رقم دے کر منافع حاصل شرعا کیسا ہے؟ جزاکم اللہ خیرا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں کسی اور سے وہ چار لاکھ روپیہ لے کر نفع میں شریک کرنا سود اور ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ یہ تو واضح ہے کہ جس نے وہ چار لاکھ روپیے دیے وہ قرض کے طور پر دیا ہے اور وہ اپنا چار لاکھ قرض واپس لینے کے ساتھ اس نفع میں بھی حصہ لے گا جو نفع اس مکان بیچنے والے کو ملے گا اور یہ قرض دے کر نفع اٹھانا ہے جو سود ہے۔ حدیث شریف ہے: “کل قرض جرّ منفعة فھو ربا”(کنز العمال ٦ / ٢٣٨) ہاں! اگر مکان بیچنے والا اس چار لاکھ روپیے میں اپنا بھی کچھ پیسہ ملا کر بطور شرکت کوئی چیز خریدے اور پھر بیچ کر با ہم کسی فیصد پر مثلا آدھا آدھا نفع لیں تو یہ جائز وحلال ہوگا۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢۵/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh