صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2541 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اذان کے وقت بیت الخلاء میں جانا کیسا ہے ؟ از محمد ارباز عالم نظامی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,458

سوال (Question):

اذان کے وقت بیت الخلاء میں جانا کیسا ہے ؟ از محمد ارباز عالم نظامی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اذان کے وقت بیت الخلاء میں جانا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسںٔلہ میں کہ اذان کے وقت بیت الخلاء میں جانا کیسا ہے سـائل: محمد معاذ رضا میرگنج بریلی شریف بسـم اللـہ الرحـمٰن الرحـیم

الجــوابــــــــــ بعون الملک الوہاب

بوقت اذان بیت الخلاء جانا بہتر نہی۔اذان ہوجائے اُسکے بعد جانا چاہیے تاکہ اذان کا جواب دینے سے محروم نہ ہو جائیں ،کیونکہ اذان کا جواب دینا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔ ہاں شدید حاجت ہوتو جا سکتے ہیں، جیسا کہ فیضانِ اذان میں ہے کہ: اذان کے دوران استنجا خانے جانا بہتر نہیں کیونکہ وہاں اذان کا جواب نہ دے سکے گا اور یہ بہت بڑے ثواب سے محرومی ہے البتہ شدید حاجت ہو یا جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو چلا جائے (فیضانِ آذان صفحہ (۱۳) المکتبۃ المدینہ کراچی) واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب کتبـــــہ:محمد ارباز عالم نظــــــامی ترکپٹی کوریاں کشی نگر یوپی الھـــــــــند

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh