صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1338 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,925

سوال (Question):

استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

سوال : زید کہتا ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور بکر کہتا ہے کہ ڈھیلا لینا ضروری نہیں بلکہ جسے بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو اس کے لیے ڈھیلا لینا ضروری ہے ۔ اور زید ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ہے جو امام ڈھیلا استعمال نہیں کرتا اگرچہ وہ امام ڈھیلا لینے کا منکر بھی نہ ہو ۔ تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو زید پر شرعی حکم کیا ہے جو کہ جماعت کا تارک ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ استنجا کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بعد پیشاب پاک مٹی، کنکریا پھٹے پرانے کپڑے سے پیشاب سکھائے پھر پانی سے دھو ڈالے۔ لیکن اگر کوئی صرف پانی ہی استعمال کرے تو بھی درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں .اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا چوں چرا جائز ہے کہ ڈھیلے سے استنجا سنت ہے فرض واجب نہیں. اور ڈھیلے کے استعمال کے بعد پانی کا استعمال افضل ہے جیسا کہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ 126 پر ہے ” الاستنجاء بنحو حجر سنۃ ١ھ ملخصا ” اور اسی میں صفحہ ١٢٧ پر ہے ” وغسلہ بعد الحجر ادب ” البتہ اگر کسی کو بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو تو اس پر استبراء کرنا یعنی ڈھیلے وغیرہ کا استعمال کرنا واجب ہے. اور زید نے جو یہ بات کہی ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے ہرگز صحیح نہیں ۔ اس پر توبہ و استغفار لازم ہے اس نے بغیر علم کے فتوی دیا. اور حدیث شریف میں ہے کہ جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں (کنز العمال جلد 10 صفحہ 193) اور وہ اس بنیاد پر امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ کر جماعت ترک کرتا ہے تو وہ فاسق اور مردود الشہادۃ ہے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٣٨٠ پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی عبدالمقتدر نظامی مصبــــــــــــاحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh