صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #288 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اسلامی بہنوں کا خوشبو لگانا کیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,489

سوال (Question):

اسلامی بہنوں کا خوشبو لگانا کیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سوال : اسلامی بہنوں کا خوشبو لگانا کیسا؟

جوابــــــــ :

اسلامی بہن اپنے گھر کی چار دیواری میں جہاں فقط شوہر یا محارم ہوں وہاں خوشبوں استعمال کر سکتی ہے، ہاں یہ احتیاطً لازم ہے کہ دیور جیٹھ اور دیگر غیر محارم تک خوشبو نہ پہنچے۔ باہر نکلنے پر جو عورت ایسی خوشبو لگاتی ہے کہ مردوں کی توجہ کا باعث بنے تو اسے ڈر جانا چاہیے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ “جب کوئی عورت خوشبو لگا کر لوگوں میں نکلتی ہے تا کہ اس کی خوشبو پائی جائے تو یہ عورت زانیہ ہے.(سنن النسائی)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو (ابوداؤد شریف ) فقیہ اعظم ہند حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ تحریر فراماتے ہیں کہ عورتیں ہلکی خوشبو استعمال کریں کہ یہاں زینت مقصود ہوتی ہے تیز خوشبو سے خواہ مخواہ لوگوں کی نگاہیں اٹھتی ہے

( بہار شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 408 لباس کا بیان مکتبۃ المدینہ )

زینت مقصود ہے تو عورت شوہر کیلئے بھی تیز خوشبو لگانے سے پرہیز کرے کہ خواہ مخواہ گھر کے دوسرے لوگوں کی بھی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں گی

(بحوالہ ضیاء شریعت جلد 1 صفحہ 105 تا 106)

والله تعالی اعلم بالصواب

محمد حسین قادری رضوی بریلوی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh