صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2693 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اسلام میں کتنی شادی کرنے کی اجازت ہے اور اس کی تفصیل کیا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,425

سوال (Question):

اسلام میں کتنی شادی کرنے کی اجازت ہے اور اس کی تفصیل کیا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ؟
مفتی صاحب یہ بتائں کہ شریعت میں ایک شخص کتنی شادی کر سکتا ہے ؟ اگر کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا پھر بھی ایک سے زائد شادی کرتا ہے تو کیا اسکا نکاح ہو جائے گا ۔۔۔ ایک صاحب کہنا ہے کہ اگر طاقت ہو تو گیارہ نکاح کیا جا سکتا ہے ۔۔۔

الجواب۔۔۔۔

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
اسلام کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ،نکاح کی اجازت بھی کئی حکمتوں پر مبنی ہے،دنیا میں لوگوں کے احوال وکیفیات مختلف ہوتے ہیں ،نکاح کے سلسلہ میں شریعت نے ہر ایک کی قوت وصلاحیت کے مطابق دیا ہے ،ایک نکاح کی اجازت دی ،اگر زیادہ نکاح کرنا چاہے تو زیادہ سے زیادہ چار نکاح کرنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ شوہر اپنی بیویوں کا حق عدل وانصاف اور مساواۃ وبرابری کے ساتھ اداکرے ،اگر برابری کے ساتھ حق ادانہ کرسکے تو ایک سے زائد نکاح تو حلال ہے مگر حق ادانہ کرنے والا گنہگار ہوگا۔ جیسا کہ حق تعالی کا ارشاد ہے : فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (نساء ۔آیت ٣) تو نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں اچھی معلوم ہوں دودو،تین تین،چار چار،پھر اگر ڈروکہ برابر نہ رکھ سکوگے تو ایک ہی کرلو۔ ایک سے زائد نکاح کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے اسمیں کئی حکمتیں پنہاں ہیں اور اس حکم میں کئی معاشرتی مسائل کا حل ہے ۔ازدواجی زندگی میں بہت سے ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں کہ دوسری شادی کے سوا عقدۂ لا ینحل بن کر رہ جاتے ہیں۔ نکاح کے بہت سارے مقاصد میں ایک مقصد افزائش نسل ہوتا ہے،اگر بیوی فطری طور پر بچہ جننے سے قاصر ہو تو کیا مرد بھی ہمیشہ کیلئے نعمتِ اولاد سے محروم رہے؟یامرد اس عورت کو طلاق دے کر کسی اور سے نکاح کرلے ؟اس کے بعد اس بانج عورت کا پر سان حال کون ہوگا؟اسلام نے اس مسئلہ کا حل بتایا کہ پہلی بیوی کو نکاح میں رکھتے ہوئے ایک اور خاتون سے نکاح کرسکتا ہے ۔ اگر بیوی جسمانی طور پر بیمار رہتی ہو،اور یہ حالت سالہاسال جاری ہو ،اپنے تقاضے کی تکمیل نہیں کرسکتا،اس مسئلہ کا حل دوسری شادی ہے ۔ اعدادوشمار کے اعتبارسے دیکھا جائے تو مرد حضرات کی بہ نسبت عورتوں کی تعداد عام طورپر زیادہ ہوتی ہے،مرد جنگوں میں جاں بحق ہوتے ہیں ،ایسے کام جسمیں خطرات کی توقع زیادہ ہوتی ہے بالعموم مردہی کرتے ہیں،خواتین ان خطرات وحوادثات سے بہت کم دوچار ہوتی ہیں،ان وجوہ واسباب سے معاشرے میں مرد حضرات کی بہ نسبت خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے،اگرایک مرد صرف ایک عورت سے نکاح کرے تو معاشرے میں خواتین کی قابل لحاظ تعداد ایسی باقی رہ جائیگی جو بیوہ ہوچکی یا ان بیاہی ،اگر اس مسئلہ کا حل نہ نکالا جائے تو معاشرے کی خوشگوار فضاء ،مسموم اور اخلاقی گندگیوں سے آلو دہ ہو جائیگی ،اس مسئلہ کا واحد حل تعداد ازواج ہے ،ایک مرد کا ایک سے زائد عورتوں سے نکاح کرنا ہے۔اسی لئے اسلام میں ایک سے زائد چار تک نکاح کرنے کی اجازت ورخصت دی گئی ۔ اس کیلئے شرط یہ رکھی گئی کہ آدمی اپنی بیویوں کے درمیان مساوات کو ملحوظ رکھے ،نان نفقہ ،رہائش اور دیگر حقوق عدل وانصاف کے ساتھ اداکرے۔ بیویوں کے حقوق میں کمی وزیادتی کی صورت میں آدمی گنہگار ہوگا اور قیامت کے دن ماخوذ ہوگا۔جس شخص کو دوبیویوں کے درمیان لباس وپوشاک ،نان نفقہ ،سکونت رہائش یا وظیفۂ زوجیت ادانہ کرسکنے کا اندیشہ ہواُسے حق نہیں کہ وہ ایک سے زائد نکاح کرے ،اگر اس کے باوجود وہ دوسرا نکاح کرتا ہے تو گو نکاح ہوجائے گا لیکن اس کے ذمہ انصاف نہ کرنے اور زوجہ پر ظلم کرنے کا گناہ رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب.

از فقیر محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور و صدر المدرسین دارالعلوم مرکز السنہ خلیل العلوم لکھنؤ یو پی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh