صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1347 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اس کی دوسری شادی کرادیجئے”سے طلاق ہوسکتی ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,674

سوال (Question):

اس کی دوسری شادی کرادیجئے"سے طلاق ہوسکتی ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اس کی دوسری شادی کرادیجئے”سے طلاق ہوسکتی ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر شوہر اپنی ساس سے اپنی بیوی کا نام لے کر کہے کہ “اس کی دوسری شادی کرادیجیے” جبکہ طلاق کی نیت نہیں تھی تو کیا طلاق واقع ہوجائےگی یا نہیں؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی. المستفتی:عبد اللہ گڑھوا جھارکھنڈ،انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب- زید کا اپنی ساس سے اپنی بیوی کا نام لے کر یہ کہنا کہ” اس کی دوسری شادی کرادیجیے” کنایۂ طلاق ہوسکتا ہے. فتاویٰ رضویہ مترجم میں ہے“علی معنی زوجوھا فلانا لانی طلقتھا کما قال شامی فیمن زوج امرأتہ من غیرہ موجھا لمن قال ان نوی طلقت لعل وجھہ ان قولہ زوجتک إمرأتی فلانۃ یحتمل ان یکون علی تقدیر ان صح تزویجھا منک او تقدیر لانھا طالق منی فاذا نوی الطلاق تعین الثانی فتطلق” اھ (ج١٢ص٦١٦،کتاب الطلاق،باب الکنایات) یعنی اس کا نکاح فلاں سے کردو کیوں کہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے کے مطابق ہے جیسا کہ علامہ شامی نے ماتن کے قول” جس نے اپنی بیوی کا نکاح دوسرے سے کردیا”کے متعلق جس نے کہا اگر طلاق کی نیت کی ہو طلاق ہوجائے گی اس قول کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا خاوند کا کہنا کہ میں نے اپنی فلاں بیوی کا تجھ سے نکاح کیا اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ تجھ سے نکاح کیا اگر تجھ سے نکاح کرنا جائز ہو اور دوسرا احتمال یہ ہے تجھ سے نکاح کیوں کہ میں نے اس کو طلاق دے رکھی ہے تو جب طلاق کی نیت سے کہے تو صرف دوسرا احتمال مراد ہوگا اس لیے طلاق ہوجائے گی. زید سے قسم لی جائے کہ تو نے اس جملہ سے طلاق کی نیت کی تھی یا نہیں اگر حلفیہ کہے کہ میں نے اس سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو وقوع طلاق کا حکم نہ ہوگا اور اگر قسم کھانے سے انکار کردے تو طلاق بائن پڑ جائےگی اور عورت اس وقت سے جب یہ الفاظ اس نے اپنی ساس سے کہے تھے نکاح سے باہر سمجھی جائے گی دریں صورت بغیر نکاح جدید کے ان میں میل جول نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں” اگر بہ نیت طلاق تھا ایک طلاق بائن ہوگئی اور اگر بقسم کہے کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی قبول کرینگے اور وقوع طلاق کا حکم نہ دی گے” اھ(فتاویٰ رضویہ مترجم ج١٢ص٥٧٠، کتاب الطلاق،باب الک آیات) فتاویٰ ھندیہ میں ہے “لوقال تزوجی ونوی الطلاق او الثلث صح وان لم ینو شیئا لم یقع کذا فی العتابیۃ”اھ(ج١ص٣٧٦،کتاب الطلاق،الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،الفصل الخامس فی الکنایات) فتاویٰ رضویہ مترجم میں رد المحتار سے ہے ۔ “لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انو الطلاق لایقع شئی لان معناہ ان امکنک”اھ(ج١٢ص٥٧١، کتاب الطلاق،باب الکنایات) اگر زید جھوٹی قسم کھائےگا تو اس کا وبال زید ہی پر ہے عورت الزام سے بری ہے. ایسا ہی فتاوی رضویہ مترجم ج١٢ص٦٠٦، کتاب الطلاق،باب الکنایات میں ہے. وﷲ تعالٰی اعلم بالصواب. کتبـــــــــــــہ:محمدارشد حسین الفیضی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh