صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1736 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,254

سوال (Question):

اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب معتکف (یعنی اعتکاف کرنےوالا) کا مسجد میں ضرورتاً بغیر موباٸل کے جاٸز اور مباح باتیں کرنا جائز ہے ، اسی طرح ضرورتاً موباٸل پر کال یا میسیج کے ذریعے جاٸز اور مباح باتیں کرنا بھی جائز ہے ، بشرطیکہ اس سے کسی نمازی کی نماز یا اور دیگر عبادات میں خلل واقع نہ ہوتا ہو ، اور موباٸل کی رنگ ٹون (بیل) بھی ایسی ہو کہ نماز و عبادت میں خلل واقع نہ ہو اور نہ ہی رنگ ٹون گانے باجے پر مشتمل ہو، اور بہتر یہ ہے کہ موبائل رنگ ٹون کے بجائے ساںٔلینٹ موڈ میں رکھا جائے۔ اور جب تک سخت ضرورت درپیش نہ ہو موباٸل کا استعمال نہ کیا جاۓ ، فناۓ مسجد موبائل استعمال کرنا انسب و اولی ہے۔ کیونکہ فی زماننا ہمارے یہاں کے اکثر معتکفین کا موباٸل استعمال کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ بلاضرورت دوست و احباب اور دیگر لوگوں سے فضول گپ شپ کرتے رہتے ہیں ، اس کی شریعت مطہرہ میں قطعاً اجازت نہیں ہے۔ اور یہ اعتکاف کی روحانیت کے بھی خلاف ہے ، البتّہ دینی کاموں کے لئے موباٸل استعمال کرنے میں شرعاً حرج نہیں.. اور اگر کاروباری معاملات فون پر حل ہو جائے تو مذکورہ بالا قیودات کی روشنی میں بات کرنے میں حرج نہیں.. ھکذا فی احکام التراویح والاعتکاف ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــہ :مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh