صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1688 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

افطار کی وجہ سے اذان واقامت مغرب میں تاخیرکرنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,531

سوال (Question):

افطار کی وجہ سے اذان واقامت مغرب میں تاخیرکرنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

افطار کی وجہ سے اذان واقامت مغرب میں تاخیرکرنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے علمائے کرام ومفتیان ذوی الاحترام کہ رمضان المبارک میں عام طور پر اکثر مساجد میں افطار کی وجہ سے اذان واقامت مغرب میں تقریبا 10 منٹ کا وقفہ کیا جاتا ہے اور لوگ کھانے پینے میں مشغول رہتے ہیں ایسا کرنا کیسا ہے ۔ المستفتی: محمد مشاہد القادری جلالی بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ بدلی کے دن کے سوا عام طور پر نماز مغرب میں ہمیشہ تعجیل (جلدی کرنا) مستحب ہے۔ اذان مغرب کے بعد تاخیر کی تین صورتیں ہیں: (1) دورکعت سے کم کی تاخیر مکروہ نہیں بلکہ بلاکراہت جائز ہے۔ (2)دورکعت کے بقدر یا اس سے زائد تاخیر کرنا ، لیکن ستاروں کے ظہور سے قبل نماز پڑھنا اتنی تاخیر مکروہ تنزیہی ہے ۔ (3)بلا عذر اتنی تاخیر کہ ستارے خوب ظاہر ہوجائیں یہ مکروہ تحریمی ہے ۔ لیکن عذر مثلا سفر ، مرض اور کھانے کی اشتہا وغیرہ کے سبب تاخیر مکروہ بھی نہیں ۔ رمضان المبارک میں چوں کہ افطاری سامنے موجود ہوتی ہے اور نمازیوں کو کھانے کی اشتہا بھی لہذا اذان مغرب کے بعد پانچ ؛ سات منٹ کا وقفہ کرنا جائز ہے مکروہ نہیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے : ” ویستحب تعجیل المغرب فی کل زمان کذا فی الکافی” اھ ( الفتاوی الھندیۃ : ج: 1، ص: 52، کتاب الصلاۃ، الباب الاول فی المواقیت، الفصل الثانی) حاشیئہ طحطاوی میں ہے : ” واعلم ان التاخیر بقدر رکعتین مکروہ تنزیھا والی اشتباک النجوم تحریما ” اھ (حاشیۃ الطحطاوی : ج: 1، ص: 178) در محتار میں ہے : “وأخر المغرب الی اشتباک النجوم ای کثرتھا کرہ ای التاخیر لا الفعل لانہ مامور بہ تحریما الا بعذر کسفر وکونہ علی اکل…وتعجیل المغرب مطلقا وتاخیرہ قدر رکعتین یکرہ تنزیھا “اھ ملتقطا رد المحتار میں ہے : ” وان مافی القنیۃ من استثناء التاخیر القلیل محمول علی ما دون الرکعتین ، وان الزائد علی القلیل الی اشتباك النجوم مکروہ تنزیھًا وما بعدہ تحریمًا الا بعذر ” اھ الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 2 ، ص: 27 تا 29 کتاب الصلاۃ، مطلب فی طلوع الشمس من مغربھا ) فتاوی رضویہ میں ہے : ” اور اس ( مغرب ) کا وقت مستحب جب تک ہے کہ ستارے خوب ظاہر نہ ہو جائیں، اتنی دیر کرنی کہ چھوٹے چھوٹے ستارے بھی چمک آئیں مکروہ ہے” اھ (الفتاوی الرضویۃ : ج: 5، ص: 153) بہار شریعت میں ہے : ” روز ابر کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر ومرض وغیرہ اتنی تاخیر کہ ستارے گُتھ گئے تو مکروہ تحریمی” اھ (بہار شریعت : ج: 1، ح: 3، ص: 453، نماز کے وقتوں کا بیان )والله تعالٰی اعلم کتبــــــــــہ : عبدالقادر المصباحی الجامعی مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ٣ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh