صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #919 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اللہ تعالی کو اللہ میاں کہنا درست ہے یا نہیں؟ / مسائل ورلڈ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,840

سوال (Question):

اللہ تعالی کو اللہ میاں کہنا درست ہے یا نہیں؟ / مسائل ورلڈ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ تعالی کو اللہ میاں کہنا درست ہے یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کی اللہ تعالی کو اللہ میاں کہنا درست ہے یا نہیں؟ جو اللہ میاں کہتے ہیں ان پر کس قدر گناہ ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ

اللہ تعالی، اللہ عزوجل، اللہ عزوجلالہ، اللہ سبحانہ ،اللہ عزشانہ ، یا جل شانہ وغیرہ کہنا چاہیے ۔ عوام میں یہ لفظ بولا جاتا ہے اس سے انہیں احتراز کرنا چاہیے ۔ تفصیل کے لیے احکام شریعت دیکھیں. اس میں اعلٰی حضرت قدس سرہ نے مفصل تحریر فرمایا، گناہ نہیں مگر یہ لفظ اس کی جناب میں بولنا برا ہے. اس کی شان و عزت کے لائق نہیں ۔

واللہ تعالی اعلم ۔

فتاویٰ مفتی اعظم جلد دوم کتاب العقائد والکلام صفحہ ٧

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh