صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2629 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اللہ سے بڑھ کر آدمی(انسان)ہو گئے ہیں کہنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,588

سوال (Question):

اللہ سے بڑھ کر آدمی(انسان)ہو گئے ہیں کہنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ سے بڑھ کر آدمی(انسان)ہو گئے ہیں کہنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی ہندہ اپنے بھتیجے سے گھریلو حالات کے بارے میں گفتگو کر رہی تھی گفتگو کے دوران یہ بات ہوئی کہ اج کل ایک بھائی دوسرے بھائی کو بڑھتا ہوا دیکھ کر حسد کرنے لگتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ نہ بڑھ پاتا تو اچھا ہوتا اور بھائی کے درپے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اسی اثنا میں ہندہ نے کہا کہ اللہ سے بڑھ کر منئ( آدمی )ہوگئے ہیں یا ہو جاتے ہیں گفتگو ختم ہونے کے بعد ہندہ سے پوچھا گیا کہ تو نے ایسا کہا ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ تو اس نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اتنا دکھ نہیں دیتا جتنا آدمی دیتا ہے۔ اللہ دکھ نہیں دیتا ہے مگر آدمی ستاتا ہے ۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ سورۃ مسوٓلہ میں ہندہ پر کیا حکم عائد ہوتا ہے تفصیل بیان فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ جواب  جملہ مذکورہ کفر ہے اس لئے کہ ہندہ نے آدمی کو اللہ تعالی سے بڑھ کر بتایا اور کلمہ کفر کا استعمال کرنا اگرچہ اس کا اعتقاد نہ رکھے کفر ہے جیسا کہ در مختار جلد سوم صفحہ 310 میں ہے “من ھزل بلفظ کفر ارتد وان لم یعتقدہ للاستخفاف “۱ھ۔ اور شامی جلد سوم صفحہ ۲۹۳ پر بحرالرائق سے ہے” الحاصل ان تکلم بکلمۃ الکفر ھازلا او لاعبا کفر عند الکل ولا اعتبار باعتقادہ کما صرح بہ فی الخانیۃ” لہذا ہند ہ کو کلمہ پڑھا کر اسے اعلانیہ توبہ اور استغفار کرایا جائے اور شوہر والی ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ہے کتبہ : مفتی جلال الدین احمد امجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh