صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #587 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اللہ عزوجل اور بھگوان ایک ہی ہیں ایسا لفظ بولنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,885

سوال (Question):

اللہ عزوجل اور بھگوان ایک ہی ہیں ایسا لفظ بولنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ عزوجل اور بھگوان ایک ہی ہیں ایسا لفظ بولنا کیسا ہے؟/ نیز بولنے والے پر کیا حکم؟

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ کیا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ اور بھگوان ایک ہی ہے ایسا لفظ بولنا کیسا ہے برائے مہربانی مع حوالہ جواب دیں . المستفتی محمــــــــد راحت خان _وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ الجـــــوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب مذکورہ صورت میں جو شخص ایسا کہے کہ اللہ و بھگوان ایک ہی ہے وہ اسلام سے خارج ہوکر کافر و مرتد ہوگیا لہذا تجدید ایمان اور اگر بیوی والاہے اور اسے دو بار رکھنا چاہتا ہے تو تجدید نکاح نئے مہر کے ساتھ کریں ۔ جیسا کہ شارح بخاری فقیہ اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں کہ “بھگوان اور رام کے جو حقیقی معنی ہیں ان پر مطلع ہوتے ہوئے جو شخص الله عزوجل کو بھگوان یا رام کہے وہ بلا شبہہ کافر مرتد ہے, اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہوگئے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئ, اس پر فرض ہے کی فورا اس سے توبہ کرے پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو اور اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو پھر سے تجدید نکاح کرے. سنسکرت میـں بھگ عورت کی شرم گاہ کو کہتے ہیں, اور وان معنی والا. رام کے معنی رما ہوا یعنی کسی میـں گھسا ہوا ہے یہ دونوں معنی الله عزوجل کے لیے عیب اور اس کو مستلزم ہیــں کہ وہ خدا نہ ہو اس لیے دونوں الفاظ کا اطلاق اللہ عزوجل پر کفر ہے ۔  رہ گئی وہ لوگ جو اس کے حقیقی معنی نہیـــــں جانتے وہ صرف اتنا جانتےہیں کہ ہندوؤں میـں الله عزوجل کو بھگوان یا رام کہا جاتا ہے .انھون نے اگر الله عزوجل کو بھگوان یا رام کہا تو ان کا حکم اتنا سخت نہیں پھر بھی ان پر توبہ و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے،خواہ ایک شخص کہے یا سب لوگ کہیں بے علم عوام کے کہنے سے کوئی کفر اسلام نہیـــــں ہوجائےگا،ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ایمان و کفر جانے بےعلمی عذر نہیـــــں ہوسکتی جن جن لوگوں نے اللّه عزوجل کو بھگوان یا رام کہا بہرحال،ان پر توبہ و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے، خواہ وہ بھگوان یا رام کے حقیقی معنی جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔ (فتاویٰ شارح بخاری جلد اول ۱۷۱ تا ۱۷۲) اور آگے شارح بخاری لکھتے ہیں کہ : الله عزوجل کو بھگوان کہنا کفر ہے کہنے والے پر تجدید ایمان اور نکاح لازم ہے ایشور کہنا بھی جائز نہیـــــں’ یہ ہندؤں کا شعار ہے ہندؤں نے بہت سے الفاظ خاص کیے ہیں, ان میں کُچھ کفر ہیــں حرام سبھی ہیــں. (فتاویٰ شارح بخاری جلد اول صفحہ ۲۴۶) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ محــمد نـورجـمال رضـوی دیناج پـوری بنگال (۲۰) رمضان المبارک ۲٤٤١؁ھ بروز؛ پیر الجواب صحیح والمجیب نجیح : خلیفۂ سرکار تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ،مدظلہ العالی والنورانی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh