صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1761 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اللہ و رسول کے حاضر و ناظر ہونے کی وضاحت

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,486

سوال (Question):

اللہ و رسول کے حاضر و ناظر ہونے کی وضاحت

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ و رسول کے حاضر و ناظر ہونے کی وضاحت

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرع متین مسائلِ ذیل میں : 1. خداے جل شانہ ہر جگہ موجود ہے، یا کوئی جگہ اس سے خالی ہے، اگر خالی ہے تو وہ کون سی جگہ ہے؟ 2. زید کہتا ہے کہ (الف)حضور ﷺ حاضر و ناظر ہیں خدا جل شانہ حاضر و ناظر نہیں (ب) دوم یہ کہ خدا جل شانہ کو حاضر و ناظر کہنا کفر ہے، بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے، پس زید کے اس قول سے تمام حکام اور چپراسی جو کہ مدعی و مدعا علیہ اورگواہان سے حلف لیتے ہیں ان الفاظ کے ساتھ کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر سچ کہیں گے، اس کے کہنے اور کہلانے سے بقول زید سب کا فر اور بیویاں نکاح سے باہر ٹھہریں یا نہیں ۔ زید کا قول کہاں تک صحیح ہے؟ از روے شرع شریف جواب مدلل تحریر فرمائیں ۔ بینواو توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1. اللہ عز و جل مکان و زمان سے پاک ہے ، کوئی جگہ، کوئی مکان، کوئی وقت، کوئی زمان اس کا احاطہ کر سکے، محال ہے۔ عقائد نسفی میں ہے: لا یتمکن فی مکان ولا یجری علیہ زمان) اللہ عز و جل نہ کسی مکان میں مکین ہے نہ زمان کا اس پر مرور ۔ یعنی خدا وند قدوس کا کسی جگہ مخلوق کی طرح موجود ہونا محال ہے۔ 2. حضور اقدسﷺ اللہ عز و جل کے محبوب بندے اور پیاری مخلوق ہیں ۔ ان کے لیے مکان و زمان ثابت ہے، بے شک وہ حاضر و ناظر ہیں اور بلا شبہہ خدا وند کریم مکان و زمان سے پاک ہے ۔ اس کو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں ؎ وہی لا مکاں کے مکیں ہوئے سرِ عرش تخت نشیں ہوئے وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں ، وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں اللہ عز وجل سمیع و بصیر، علیم و خبیر ہے۔ ہر جگہ ہر مکان میں ہر شے کوہر وقت برابر دیکھتا ، سنتا، جانتا ہے، ہر شے کو اس کا علم محیط ہے، حلف لیتے وقت جو یہ کہتے ہیں کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہیں گے ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے فعل کو خدا وند کریم دیکھتا ہے، ہمارے قول کو سنتا ہے۔ یہ معنی صحیح ہیں مگر بجاے حاضر و ناظر کے شہید و بصیر کہنا چاہیے۔) ( وھو تعالیٰ اعلم۔ کتبہ: عبد العزیز عفی عنہ  ماخوذ از فتاوٰی حافظ ملت

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh