صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2652 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اللہ کو بھگوان کہنا کیسا ہے ؟ علامہ مفتی دانش حنفی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,079

سوال (Question):

اللہ کو بھگوان کہنا کیسا ہے ؟ علامہ مفتی دانش حنفی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اللہ کو بھگوان کہنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ کو بھگوان یا ایشور کہنا کیسا ہے اس قسم کے الفاظ جو ہندو اپنے معبود باطل کے لیۓ بولتے ہیں اگر کوئی مسلمان اللہ کے لیۓ ایسے الفاظ بولے تو اس پر کیا حکم ہے ؟ بینوا و توجروا۔

الجواب ھو الھادی الی الصواب

اللہ کریم کو اللہ کے ذات و صفات والے نام سے پکارا جائے۔ اللہ کو بھگوان کہنا کفر ہے۔ ایشور کہنا ناجائز ۔ ۔ایک ایسے ہی سوال کے جواب میں مفتی شریف الحق رحمۃ اللہ علیہ نے فتاوی شارح بخاری جلد 1 صفحہ نمبر 246 پر۔ فرماتے ہیں ۔ اللہ عزوجل کو بھگوان کہنا کفر ہے۔کہنے والے پر توبہ تجدید ایمان نکاح لازم ہے۔ایشور کہنا بھی جائز نہیں یہ ہندوں کا شعار ہے۔ ہندوں نے بہت سے الفاظ خاص کئے ہیں ان میں کچھ کفر ہیں اور حرام سبھی ہیں واللہ تعالی اعلم کتبہ :علامہ مفتی دانش حنفی ہلدوانی نینیتال

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh