صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1221 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

امامت کا حقدار کون ہے حافظ یا عالم؟ / امامت کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,781

سوال (Question):

امامت کا حقدار کون ہے حافظ یا عالم؟ / امامت کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

امامت کا حقدار کون ہے حافظ یا عالم؟

سوال : مفتیان کرام سے سوال ہے کہ حافظ اور مولانا میں کس کا مرتبہ زیادہ ہے ہمارے طرف حافظ کو اہمیت دیتے ہیں عالم کو نہیں حافظ کو امامت کا حقدار سمجھتے ہیں عالم کو نہیں رہنمائی فرمائیں ۔ سائل : محمد سعید اختر یوپی الجوابـــــــــــــــــــــ اگر عالم دین قرآن پاک کو صحیح پڑھ لیتا ہے اور تقویٰ و طہارت میں حافظ سے بڑھ کر ہے تو عالم دین کی امامت حافظ سے افضل ہے جیسا کہ در المختار مع رد المحتار میں ہے کہ ” ( و الأحق بالإمامة ) تقدیمًا بل نصبًا مجمع الانھر ( الأعلم بأحکام الصلاة ) فقط صحة و فسادًا بشرط اجتنابه للفواحش الظاھرة . ( حسن تلاوة ) و تجويدا ( للقراءة ثم الاورع ) اى الاكثر اتقاء للشبهات و التقوى : اتقاء المحرمات ” اھ ( در مختار ج ٢ ص ٢٧٤ کتاب الصلاۃ ، باب الامامة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے ” الأولی بالامامة أعلمهم بأحکام الصلوۃ هكذا فى المضمرات ، هذا إذا علم من القراءة قدر ما تقوم به سنة القراءة هكذا فى التبيين۔ و يجتنب الفواحش الظاهرة و ان كان غير اورع منه كذا فى المحيط و إن کا ن متبحرا فی علم الصلوۃ لکن لم یکن له حظ فی غیرہ من العلوم فهو أولی ” اھ ( فتاوی عالمگیری ج ١ ص ٩٢ کتاب الصلاۃ ، باب الامامة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ ” سب سے زیادہ مستحق امامت وہ شخص ہے جو نماز و طہارت کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو ، اگر چہ باقی علوم میں پوری دستگاہ ( مہارت ) نہ رکھتا ہو ، بشرطیکہ اتنا قرآن یاد ہو کہ بطور مسنون پڑھے ” اھ ( بہار شریعت ج ١ ص ٥٦٧ امامت کا بیان ) مذکورہ بیان سے معلوم ہوا کہ اگر عالم بقدر ضرورت مطابق تجوید قرآن اچھا پڑھ لیتا ہے تو عالم کی امامت افضل ہے ۔ کیونکہ عالم نماز و طہارت اور قرآن کے معانی و مفہوم کے بارے میں حافظ سے زیادہ جانکاری رکھتا ہے لہذا عالم علم صلاحیت کی بناء پر حافظ سے مرتبہ میں زیادہ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh