صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1642 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,124

سوال (Question):

امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں ہم نےسناہےکہ امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نمازنہیں ہوگی اس کی کیاحقیقت ہے؟ سائل محمد وقاص کالاباغ پاکستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب (مذکورہ صورت میں ایساہرگزنہیں ہے،امام اگرتنہاء نماز پڑھنے والے کی طرح صرف اپنی نماز کی نیت بھی کرلے تو اس کی اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجائے گی، امام کے لئے اپنے مقتدیوں کی نیت کرنالازم نہیں ہےہاں البتہ بہتر یہ ہے کہ امام امامت کی نیت کرے.. فتاویٰ عالمگیری میں ہے الامام ینوی ماینوی المنفردولایحتاج الی نیۃ الامامۃ حتی لونوی ان لایوم فلانافجاء فلان واقتدی به جاز، ھکذفی فتاویٰ قاضی خان ، یعنی امام وہی نیت کرےجواکیلےنمازپڑھنےوالےکی ہوتی ہےاسےامامت کی نیت کی حاجت نہیں ہےحتی کہ اگرکسی نےیہ نیت کرلی کہ میں فلاں کاامام نہیں ہوں، پھراس شخص نےاس کی اقتداکی نیت کی تواس کی نمازبھی ہوجائےگی : فتاویٰ عالمگیری جلد1صفحہ66*) انوار الفتاویٰ جلد1صفحہ215*) بہار شریعت میں ہے مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں ، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثوابِ جماعت نہ پائے گا اور ثوابِ جماعت حاصل ہونے کے لیے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے: بہارشریعت حصہ3 صفحہ495 مکتبۃ المدینہ کراچی مزید تحریر فرماتے ہیں : “ایک صورت میں امام کو نیتِ اِمامت بالاتفاق ضروری ہے کہ مقتدی عورت ہو اور وہ کسی مرد کے محاذی (برابر) کھڑی ہو جائے اور وہ نماز، نمازِ جنازہ نہ ہو تو اس صورت میں اگر امام نے اِمامت زناں/عورتوں کی امامت) کی نیت نہ کی، تو اس عورت کی نماز نہ ہوئی: (درمختار) اور امام کی یہ نیت شروع نماز کے وقت درکار ہے، بعد کو اگر نیت کر بھی لے، صحتِ اقتدائے زن کے لیے کافی نہیں: *(ردالمحتار)* بہارشریعت حصہ3 صفحہ 495مکتبۃ المدینہ کراچی *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمدعمران عطاری مدنی عفی عنہ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh