صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1370 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,165

سوال (Question):

امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟

سوال : جماعت کی وتر میں امام نے دعائے قنوت بھول کر چھوڑ دی اور رکوع میں چلا گیا اور اس کے بعد مقتدی نے لقمہ دیا تو امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور اخیر میں سجدہ سہو کیا تو اس نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ مسئلہ یہ ہے کہ اگر امام دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلا جائے تو اسے قنوت کی طرف پلٹنا درست نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ آخر میں سجدہ سہو کرے. فتاوی قاضیخان مع عالمگیری جلد اول صفحہ 121 میں ہے ” لو ترک القنوت فذکر فی القعدۃ او بعد ما قام من الرکوع لا یقنت وعلیہ السھو ” ١ھ. لہذا صورت مسئولہ میں مقتدی کے غلط لقمہ دیتے ہی اس کی نماز فاسد ہوگئ اور وہ نماز سے باہر ہوگیا اب امام نے ایک ایسے شخص کا لقمہ لیا جو نماز سے باہر ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگئ اور اس سبب سے باقی مقتدیوں کی بھی نماز جاتی رہی. اس لئے کہ اس پلٹنے کو جائز کوئی نہیں بتاتا تو جس نے امام کو اس ناجائز پلٹنے کے لیے لقمہ دیا اس کی نماز فاسد ہوئی اور امام مقتدی کے پلٹانے سے پلٹا اور وہ نماز سے باہر تھا تو خود اس کی نماز بھی جاتی رہی اور اس سبب سے سب کی نماز گئی. ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ٦٤٨ ہے ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد اشتیاق احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh