Fatwa #1031
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,044
سوال (Question):
امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟
سوال : امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر سورہ بقرہ کے آخری دو آیتیں پڑھیں اور آخر میں سجدہ سہو کیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ امام صاحب نے اگر ایسا غلط پڑھا کہ جس سے معنی فاسد ہوگئے تو اسے چھوڑ کر دوسری آیت کریمہ پڑھنے اور سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ہوئی اور اگر معنی فاسد نہ ہوئے تھے تو سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں سب کی نماز ہوگی. لیکن جس مقتدی کی کچھ رکعت چھوٹ گئی تھی اگر وہ امام کے ساتھ سجدہ سہو میں شریک رہا تو فعل لغو میں اتباع کے سبب اس کی نماز باطل ہوگئی. فتاوی قاضی خان میں ہے اذا ظن الامام ان عليه سهوا فسجد للسھو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم ان الامام لم يكن عليه سهوا الا شهران صلاتہ تفسد. و هو تعالى اعلم ۔ كتبـــــــــــــــــــــــه :جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 352
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9