Fatwa #1948
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
امام کا سری نماز میں جہراً اور جہری نماز میں سراً قراءت کرنا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,093
سوال (Question):
امام کا سری نماز میں جہراً اور جہری نماز میں سراً قراءت کرنا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امام کا سری نماز میں جہراً اور جہری نماز میں سراً قراءت کرنا
سوال: اگر امام سری رکعت میں جہر سے قراء ت کر لے یا جہری رکعت میں خاموش قراء ت کرے تو سجدہ سہو واجب ہے؟ سائل: سید محمد اسرائیل رکشہ والے، مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب جن نمازوں میں یا جن رکعتوں میں آہستہ آواز سے قراءت کرنا ضروری ہےاس میں اگر امام بلند آواز سے تلاوت کرلیتا ہے یا سری نماز میں بلند آواز سے تلاوت کرلیتا ہے تو اگر اتنی مقدار بلند آواز سے یا آہستہ آواز سے قراءت کرلے کہ جس مقدارِ قراءت سے نماز درست ہوجاتی ہے یعنی تین مختصر آیتوں یا ایک لمبی آیت کے بقدر تو اس سے سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے، صرف ایک دو کلمہ سری نماز میں بلند آواز سے اور جہری نمازوں میں آہستہ آواز سے قراءت کرلینے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 81): “(والجهر فيما يخافت فيه) للإمام، (وعكسه) لكل مصل في الأصح، والأصح تقديره (بقدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين. وقيل:) قائله قاضي خان، يجب السهو (بهما) أي بالجهر والمخافتة (مطلقاً) أي قل أو كثر. (قوله: والجهر فيما يخافت فيه للإمام إلخ) في العبارة قلب، وصوابها: والجهر فيما يخافت لكل مصل، وعكسه للإمام، ح وهذا ما صححه في البدائع والدرر، ومال إليه في الفتح وشرح المنية والبحر والنهر والحلية على خلاف ما في الهداية والزيلعي وغيرهما، من أن وجوب الجهر والمخافتة من خصائص الإمام دون المنفرد. والحاصل: أن الجهر في الجهرية لا يجب على المنفرد اتفاقاً؛ وإنما الخلاف في وجوب الإخفاء عليه في السرية، وظاهر الرواية عدم الوجوب، كما صرح بذلك في التتارخانية عن المحيط، وكذا في الذخيرة وشروح الهداية كالنهاية والكفاية والعناية ومعراج الدراية. وصرحوا بأن وجوب السهو عليه إذا جهر فيما يخافت رواية النوادر اهـ فعلى ظاهر الرواية لا سهو على المنفرد إذا جهر فيما يخافت فيه، وإنما هو على الإمام فقط. (قوله: والأصح إلخ) وصححه في الهداية والفتح والتبيين والمنية؛ لأن اليسير من الجهر والإخفاء لا يمكن الاحتراز عنه، وعن الكثير يمكن، وما تصح به الصلاة كثير، غير أن ذلك عنده آية واحدة، وعندهما ثلاث آيات هداية. (قوله: في الفصلين) أي في المسألتين مسألة الجهر والإخفاء”. واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ کتبـــہ :مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤںقرات سری اور جہری میں کیا حکمت ہے ؟
عشاء کی نماز میں امام نے کچھ آیتیں آہستہ تلاوت کیں تو؟
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9