صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1172 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,050

سوال (Question):

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

سوال : زید یہ کہتا ہے کہ ہم امام کو پگار دیتے ہیں ہم اس کو نوکر ہی کہیں گے کیا زید کا کہنا درست ہے اور کہنے والے پر کیا حکم ہے؟ (٢) امام کی برائی بیان کرنے والے اسی امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو کیا ان کی نماز ہو جائے گی؟ (٣) گھڑی کی زنجیر سونے چاندی یا دھاتوں کی بنی ہوئی پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ (١) زید کا کہنا درست نہیں اس لیے کہ جیسے ماں باپ کی بیوی ضرور ہے مگر اسے اس لفظ کے ساتھ یاد کرنا ماں کی توہین ہے. پگار لینے والا ضرور نوکر ہے مگر تنخواہ دار امام کو نوکر کہنا اس کی توہین ہے. لہذا زید پر لازم ہے کہ امام سے معافی مانگے اور آئندہ اس کے بارے میں اس لفظ کے بولنے سے احتراز کرے. (٢) اگر امام فاسق معلن ہے اس لیے اس کی برائی بیان کرتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور ایسے امام کے پیچھے کسی کو نماز پڑھنا جائز نہیں. اور اگر فاسق معلن نہیں ہے تو برائی کرنے والا سخت گنہگار حق العباد میں گرفتار مگر اس کی نماز اس کے پیچھے ہو جائے گی .واللہ تعالی اعلم ۔ (٣) گھڑی سونے چاندی کی زنجیر لگی ہوئی مرد کو پہننا حرام اور دوسری دھاتوں کی ممنوع ہے ان کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے. ھکذا قال الامام احمد رضا البریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ۔ واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 272

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh