صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #699 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

امام کے آگے نماز پڑھنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,560

سوال (Question):

امام کے آگے نماز پڑھنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

امام کے آگے نماز پڑھنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں

سوال : کچھ لوگ مسجد میں گنجائش کے باوجود چھت پر چلے جاتے ہیں اور کچھ تو چھت پر امام کے آگے صف بنالیتے ہین تو کیا ان لوگوں کی نماز صحیح ہو گی اور ان کی اقتدا درست ہو گی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  جو لوگ مسجد میں گنجائش کے باوجود چھت پر چلے جاتے ہیں ان کی نماز ہو جائے گی اس لیے کہ مسجد مکان واحد کی حیثیت رکھتی ہے  ۔ مکان واحد کا مطلب ہے” ایک جگہ ” صف مسجد میں ہو پھر وہ خواہ امام سے کتنی ہی دوری پر ہو حکما امام سے متصل مانی جائے گی، یعنی اس صف والوں کی جگہ اور امام کی جگہ حکما ایک ہے – کہ مثلاً امام محراب کے پاس کھڑا ہو اور مقتدی مسجد کے ہی اندر بہت پیچھے کھڑا ہو تو اس کی نماز ہو جاتی ہے اگر چہ بیچ میں ٨ ،١٠ گاڑیاں ایک ساتھ (cross) کراس کرنے کی گنجائش ہو تب بھی اس میں حرج نہیں ۔ لیکن میدان میں آگر امام کے پیچھے مقتدی اتنی دوری پر ہے کہ درمیان سے ایک گاڑی بھی گزر سکے تو مقتدیوں کی نماز نہ ہوگی، کیوں کہ میدان میں ایک گاڑی کی مقدار جگہ چھوڑنے کے بعد اسے دوسرا مکان مان لیا جاتا ہے، پھر ایک گاڑی کی چھوڑنے کے بعد تیسرا مکان مان لیا جاتا ہے – اس کے برخلاف مسجد کی اگر مکمل لمبائی، چوڑائی مثلاً سو سو ہاتھ یا اس سے زیادہ ہو تو بھی وہ سب مکان واحد ہے، دو مکان نہیں ، لہٰذا اگر ایسی صورت پائی جاتی ہے کہ ٥،٤ /صفیں نیچے لگیں اور گنجائش رہتے ہوئے ٤، ٢ صفیں اوپر لگ گئیں تو نماز صحیح ہو جائے گی، مگر وہ نماز مکروہ ہو گی کہ بلا ضرورت مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے اور بلا وجہ امام سے دوری ایک الگ ناپسندیدہ امر ہے ۔ مکروہ کا مطلب ہے وہ عمل جو اللہ کو ناپسند ہے، ناگوار ہے تو آٓدمی نماز پڑھے اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ کو ناگوار و ناپسند ہو تو اس سے کیا فائدہ؟ نماز ہو جاتا الگ چیز ہے مگر اللہ کی ناگواری کے ساتھ وہ نماز ہوگی لہذا اس سے بچنا چاہیے ۔ اور جو لوگ چھت پر امام سے آٓ گے صف بنالیتے ہیں ان کی نماز نہ ہوگی کہ مقتدی پر امام کے پیچھے رہنا ضروری ہے اور امام کا بالاجماع سب سے آگے رہنا ضروری ہے ۔ لفظ “امام” خود ” آگے ہونے” کی خبر دیتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتبــــــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی استاد جامعہ اشرفیہ مبارکپور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh