Fatwa #1921
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,491
سوال (Question):
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب جو نکاح پڑھا تے ہیں مسجد کے متولی اور ممبر حضرات اور گاؤں والے اس میں سے کچھ روپیہ لے کر مسجد میں لگا تے ہیں کیا مسجد میں لگا نا جائز ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔ سائل: احسان رضا قادری پیش امام بڑے پورہ ضلع بریلی شریف یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب اگر امام صاحب کے فرائض منصبی میں نکاح پڑھانا بھی داخل ہو یا امام صاحب اپنی خوشی سے مسجد میں صرف کرنے کے لئے دیں تو مسجد میں لگانا جائز بصورت دیگر نکاحانہ نکاح خواں کا حق ہے اس سے جبراً لینا ناجائز ہے . جنہوں نے ایسا کیا ان پر لازم ہیکہ توبہ کریں اور جتنا امام صاحب سے لیا ہو واپس کریں اور امام صاحب سے معافی مانگیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: “وکل نکاح باشرہ القاضی وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له اخذ الاجرة عليه ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه ” اھ ( ج٣، ص٣٢٨، کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے جبکہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب ہو جیسے چھوٹے بچوں اور بچیوں کا نکاح تو اسے اجرت لینا حلال نہیں اور جب اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔بغیر گواہوں کے نکاح کرنا کیسا ہے؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ سے سوال ہوا : “نکاح خواں کو اجرت لینا اور دینا کیسا ہے؟ اگر اجرت نکاح اپنے مصرف میں نہ لائے بلکہ مسجد کے تیل اور چٹائی میں صرف کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ جواباً تحریر فرمایا: “جائز ہے۔ جب جائز ہے تو مسجد میں دینا اور بہتر ہے ” اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج١١، ص ٢٥٧، کتاب النکاح ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “غصب کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ دوسرے کا مال ہے تو غاصب گنہگار ہے اور چیز موجود ہو تو مالک کو واپس کردے موجود نہ ہو تو تاوان دے ” اھ (بہار شریعت، حصہ ١٥، ص٢١٠، غصب کا بیان، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9