Fatwa #786
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,417
سوال (Question):
انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟
سوال : کیا کسی مجبوری میں انسان کا گوشت کھانا جائز ہے؟ اور بکرے کے گوشت کو پوست کے ساتھ کھانا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ آدمی کا گوشت کھانا سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔ آدمی اپنا گوشت نہ کھا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو کھلا سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ کسی آدمی کی بھوک کی وجہ سے جان جا رہی ہو اور وہ جانتا ہے کہ اپنے بدن سے ہم نے ایک یا دو بوٹی کھا لی تو ہماری جان بچ جائے گی تو بھی شریعت کا یہی حکم ہے کہ خود اپنی جان بچانے کے لیے بھی ایسے مجبور اور بھوکے آدمی کو اپنے بدن سے گوشت کاٹ کر کھانے کی اجازت نہیں ۔ جب جان بچانے کے لیے سخت مجبوری اور بھوک کے عالم میں اپنے بدن سے گوشت کھانے کی اجازت نہیں تو پھر دوسرے کے بدن کے گوشت کو کھانا کیسے جائز ہوگا یہ سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔ رہ گیا مسئلہ بکرے کی کھال کھانے کا تو عام طور سے لوگ صرف گوشت کھاتے ہیں،اگر کسی آدمی کی خواہش یہی ہے کہ وہ اس کی کھال بھی کھائے تو اس کو بھون کر کھا سکتا ہے لیکن یہ سلیم طبیعتوں کے خلاف ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9