صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1521 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ان پڑھ سے دھوکہ دے کر طلاق نامہ پر دستخط کروا لیا تو کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,708

سوال (Question):

ان پڑھ سے دھوکہ دے کر طلاق نامہ پر دستخط کروا لیا تو کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ان پڑھ سے دھوکہ دے کر طلاق نامہ پر دستخط کروا لیا تو کیا حکم ہے ؟

جس مولوی نے مذکورہ طلاق کو جائز قرار دے کر لڑکی کا دوسرا نکاح پڑھایا اس کے لیے کیا حکم ہے؟ مسئلہ:- از : سراج احمد نیپالی، پوکھریا دماغ ، لوکہا بازار، روتہٹ ، نیپال۔ سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید نے شادی کی پھر کئی سال بعد اس نے دوسری شادی کی پھر دوسری عورت سے کچھ معاملہ درپیش آگیا جس کی وجہ سے زید کو قیدخانہ (جیل) جانا پڑا جب زید قید خانے میں تھا تو ہر روز اس سے پولیس والا سرکاری قانون کے مطابق کسی کاغذ پر دستخط کراتا تھا، زید ایک جاھل انسان تھا۔ وہ پڑھنا لکھنا بالکل ہی نہیں جانتا تھا مگر اپنے نام کا دستخط کرنا جانتا ہے اس لیے وہ ہمیشہ سرکاری کاغذ پر دستخط کرتا رہا ۔ اسی درمیان پہلی والی بیوی کے والد نے طلاق نامہ لکھوا کر پولیس والے کو دیدیا کہ اس پر دستخط کرالے جب پولیس والا زید کے پاس لے کر گیا تو زید اسے سرکاری کاغذ سمجھ کر معمول کے مطابق دستخط کردیا تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں ۔ جب کہ زید سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ میں کبھی طلاق نامہ پر دستخط نہیں کیا ہوں ۔ اور اس لڑکی کا نکاح کسی دوسرے سے جائز ہوگا یا نہیں ۔ اور اگر جائز نہیں تو ایک مولانا صاحب نے اس کو جائز قرار دے کر اس کا نکاح کروا دیا ہے تو مولانا صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــ اگر واقعی زید بے پڑھا ہے اس کو دھوکہ دے کر طلاق نامہ پر دستخط لیے گئے ہیں اور اس نے سرکاری کاغذ سمجھ کر دستخط کیا ہے تو طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان دھوکہ سے طلاق نامہ پر دستخط کروا لینے کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :” اگر جس پر چہ پر دستخط کرائے اس کو دوسرا کاغذ ظاہر کیا اور یہ شخص بے پڑھا تھا کہ نہ جان سکا تو حکم طلاق نہیں۔ اھ ملخصا” (فتاویٰ امجدیہ جلد دوم صفحہ ۱۷٤) اور جب طلاق ہی نہیں ہوئی تو وہ بدستور زید کی بیوی ہے ۔اس کا دوسرے سے نکاح سخت ناجائز و حرام ہے ۔ خاتم المحققین علامہ شامی قدس سرہ السامی تحریر فرماتے ہیں:” نكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة فاسد. “( رد المختار جلد دوم ص ٦٥٩) اور حضرت فقیہ اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :” یہ دوسرا نکاح کہ اس عورت کا کیا فاسد ( ناجائز )ہے اور وہ عورت عمرو (شوہر اول) کی زوجہ ہے فرض ہے کہ عورت کو جدا کردے۔ ( فتاوی امجدیہ جلد دوم صفحہ ٦٥) لہذا شوہر ثانی اور زید کی پہلی بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں اور توبہ واستغفار کریں ۔ اور جس مولانا نے اس کو جائز قرار دے کر نکاح کروا دیا ہے وہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار لائق غضب جبار ہے ۔ اس پر لازم ہے کہ فورا نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان عام کرے ۔ اور اعلانیہ توبہ و استغفار کرے ، نکاحانہ رقم لیا ہے تو وہ بھی واپس کرے اور لڑکی ( زید کی پہلی بیوی ) کے والد پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کرے اور اپنی لڑکی کو نام نہاد شوہر ثانی سے فوراً جدا کرے ۔ اگر یہ لوگ ایسا نہ کریں تو تمام مسلمان ان کا بائیکاٹ کردیں ۔ اللہ کا ارشاد ہے:” واما ینسینك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين. (پ ۷ ع۱٤) واللہ تعالیٰ اعلم۔ الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی کتبہ: محمد شبیر قادری مصباحی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh