Fatwa #690
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
اویس نام کادرست تَلَفُّظْ اور معنی کیا ہے نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,446
سوال (Question):
اویس نام کادرست تَلَفُّظْ اور معنی کیا ہے نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اویس نام کادرست تَلَفُّظْ اور معنی کیا ہے نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اویس نام کادرست تلفظ یہ ہے: اُوَیْسْ {کمافی کتب اللغة} نوٹ: کچھ لوگ اسکو”اَوَیْس” پڑھتےہیں جوکہ درست نہیں اور اویس نام کے معنی کے حوالے سے عرض ہےکہ : اویس “اَوْسْ”کی تَصْغِیْر ہے اور اوس کا معنی بھیڑیا اور عَطِیَّہْ آتا ہے اور بعض کتب میں اویس کا معنی بھیڑیا بھی لکھا ہے، جیساکہ لسان العرب میں ہے: “اُوَیْسُ تَصْغِیْرُاَوْسٍ وَھُوَمِنْ اَسْمَاءِالذِّئْبِ” یعنی اویس “اوس” کی تصغیر ہے اور وہ (اوس) بھیڑیے کے اسماء میں سے ہے۔ {لسان العرب جلداول صفحہ 55دمشق} المحیط فی اللغة میں ہے: “اَلْاَوْسُ اَلْعَطَاءُ” یعنی اوس(کامعنی) عطیہ ہے ۔ {المحیط فی اللغة جلد 2صفحہ 286، القاموس الوحید جلد1 صفحہ 141دارالاشاعت} اورالمنجدمیں ہے: “اُوَیْس : بھیڑیا” {المنجدعربی اردوصفحہ 40 خزینہ علم وادب لاہور} جبکہ اویس نام رکھنےکے متعلق یہ حکم ہے کہ : ایک مشھور تابعی کا نام بھی (حضرت) ”اویس“(قرنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہے جن کے فضائل کُتُبِ حدیث میں موجود ہیں {کمافی الصحیح المسلم} اور حضورﷺ نے بھی اس نام کو برقرار رکھا، لہذا معنی عطیہ اور نسبتِ تابعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا لحاظ کرتے ہوئے اویس نام رکھنا بالکل جائز ہے ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9