صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #800 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اپنی بیوی کو بیٹا کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,007

سوال (Question):

اپنی بیوی کو بیٹا کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اپنی بیوی کو بیٹا کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟

سوال : زید نے اپنی بیوی کو محبت میں بیٹا کہ دیا ۔ بیوی کہتی ہے کہ میں اب آپ کی بیوی نہ رہی ، تو کیا یہ لفظ بول دینے سے طلاق پڑگئی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا پیار و محبت میں بھی نہیں کہنا چاہیے ، لیکن بھولے سے یا قصدا اگر کسی نے اپنی بیوی کو ” بیٹا” کہ دیا تو نکاح پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ خیال رکھیں ، ایسا لفظ نہیں بولنا چاہیے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh