صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1301 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اپنی بیوی کو تین طلاق لکھ دیا تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,950

سوال (Question):

اپنی بیوی کو تین طلاق لکھ دیا تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اپنی بیوی کو تین طلاق لکھ دیا تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ اقبال احمد نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں یہ تحریر لکھی کہ میں اقبال احمد بن حافظ محمد بشیر مرحوم ساکن کھر کو پور بازار ضلع گونڈا میں نے اپنی منکوحہ امجدیہ خاتون بنت علی احمد ساکن بہادر پور بازار ضلع بستی کو ہوش و حواس کی درستگی کے ساتھ تین طلاقیں دے دیا اور جہیز کے سارے ساز و سامان واپس کر دیے اور مہر کی رقم مبلغ پانچ ہزار پینتیس روپے ادا کر دیا اور یہ تحریر لکھ دیا کہ وقت ضرورت پر کام آئے۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ تحریر سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور اگر واقع ہوئی اور اقبال احمد اسے رکھنا چاہے تو کیا صورت ہوگی؟ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں اقبال احمد کی بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہو گئی۔ اب بغیر حلالہ اقبال احمد اسے نہیں رکھ سکتا۔ قال الله تعالى: الطلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره. ” (پ٢ع١٣) حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عورت کسی سنی سے نکاح صحیح کرے عدت گزر جانے کے بعد اور یہ دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے یا مرجائے تو دوبارہ عدت گزار کر اقبال احمد سے نکاح کر سکتی ہے اس کے پہلے ہرگز نہیں کرسکتی۔ اگر دوسرے شوہر نے بغیر ہمبستری طلاق دے دی تو حلالہ صحیح نہ ہوگا اور اس صورت میں وہ اقبال احمد سے ہرگز نکاح نہیں کر سکے گی ۔ کما فی حدیث العسیلہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ كتبہ : مفتی جلال الدين احمد الامجدي

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh