صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1235 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,583

سوال (Question):

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا انتقال ہو گیا اس کے نطفے سے تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں. زید کی بیوی ہندہ نے بکر سے شادی کی اور بکر کی بیوی شبینہ سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں. بکر نے شبینہ کے ہوتے ہوئے ہندہ سے شادی کرلی اور اپنے بڑے لڑکے کا نکاح جو کہ شبینہ کے بطن سے ہے زید مرحوم کی بڑی لڑکی جو ہندہ کے بطن سے ہے کردیا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ کہ بکر بھی اس لڑکی کی ماں سے شادی کر کے اسی گھر میں رہے اور بکر اپنی پہلی بیوی کے لڑکے ہندہ سے جو بکر کی دوسری بیوی ہے اس کی لڑکی سے شادی کر کے اسی گھر میں رکھے. قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں ہندہ کی لڑکی کا نکاح ہندہ کے شوہر ثانی بکرکے اس لڑکے کے ساتھ کرنا جو شبینہ کے بطن سے ہے جائز ہے. فتاویٰ عالمگیری باب المحرمات میں ہے ” لا باس بان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا او امھا کذا فی محیط السرخسی (ج ١ صفحہ ٢٢٧) وجہ یہ ہے کہ وہ محرمات میں سے نہیں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے ” واحل لکم ما وراء ذلکم (پارہ ٥ آیت ٢٤) اور جب ان کا نکاح شرعاً درست ہے تو اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی شمس الدین احمد علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh