صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1344 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اگر تری ہاتھ پر باقی ہو تو کیا اس سے مسح کیا جائے یا نئے پانی سے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,356

سوال (Question):

اگر تری ہاتھ پر باقی ہو تو کیا اس سے مسح کیا جائے یا نئے پانی سے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر تری ہاتھ پر باقی ہو تو کیا اس سے مسح کیا جائے یا نئے پانی سے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سر کے مسح میں اگر تری ہاتھ پر باقی ہو تو نیا پانی لے کر مسح کرے یا باقی تری پر اکتفا کرے، سنت کیا ہے؟ بینوا و توجروا الجوابـــــــــــــــــــــ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے ” ادخل یدہ فی الاناء فمسح براسہ ” یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے سر کا مسح کیا. اور انہیں سے دوسری روایت میں ہے ” اخذ بیدیہ ماء فمسح راسہ ” یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں میں پانی لیا تو اپنے سر کا مسح کیا. (بخاری شریف جلد اول صفحہ 33) اور انہیں سے صحیح مسلم جلد اول صفحہ 123 اور ابو داؤد شریف جلد اول صفحہ 16 پر ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے”ومسح براسہ بماء غیر فضل یدہ ” یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا. اور ابوداؤد شریف صفحہ-17 میں ہے ” عن الربیع ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسح براسہ من فضل ماء کان فی یدہ ” یعنی حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے سر کا مسح کیا. لہذا ان احادیث کریمہ سے ثابت ہوا کہ ہاتھ کی باقی تری سے سر کا مسح کیا جائے یعنی نئے پانی سے. دونوں طریقہ ادائیگی سنت کے لیے کافی ہے. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجــدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh