صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1713 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,551

سوال (Question):

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے اکرام و مفتیانے دین مسئلہ ذیل میں کہ۔ زید عمرہ کرنے گیا تھا اور اس نے مسجد میقات پر احرام پہنا پھر مکہ ت المکرمہ آیا یہاں آکر طواف کعبہ و صفا مروہ ، بال مڈوانہ وغیرہ عمرہ کے ارکان کرنے کے بعد واپس روم پر گیا اور احرام نکالنے کے 2 گھنٹہ بعد غسل کر کے وہی احرام پہن کر رووم سے ہی عمرہ کیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید پر دم واجب ہوگی ؟اور اگر ہوگی تو، زید مدینہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے تو وہ پھر کب اور کیسے دم دےگا ۔ برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔ سائل ۔ نور جمال اعظمی یوپی الہند۔ الجواب: صورتِ مسئولہ میں اس شخص پر واجب تھا کہ دوسرے عمرہ کا احرام حرم کے باہر مثلا تنعیم سے باندھتا۔ اب جب کہ اس نے واجب کی خلاف ورزی کرکے اندرونِ حرم سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ مکمل کرلیا تو اس پر دم(قربانی) واجب ہے۔ در مختار میں ہے: “(وَ) الْمِيقَاتُ (لِمَنْ بِمَكَّةَ) يَعْنِي مَنْ بِدَاخِلِ الْحَرَمِ (لِلْحَجِّ الْحَرَمُ وَلِلْعُمْرَةِ الْحِلُّ) لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ، وَالتَّنْعِيمُ أَفْضَلُ۔” (در مختار ج٣ ص۴٨۴) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قَوْلُهُ لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ) لِأَنَّ أَدَاءَ الْحَجِّ فِي عَرَفَةَ، وَهِيَ فِي الْحِلِّ فَيَكُونُ إحْرَامُ الْمَكِّيِّ بِالْحَجِّ مِنْ الْحَرَمِ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعُ سَفَرٍ بِتَبَدُّلِ الْمَكَانِ، وَأَدَاءِ الْعُمْرَةِ فِي الْحَرَمِ فَيَكُونُ إحْرَامُهُ بِهَا مِنْ الْحِلِّ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعٌ مِنْ السَّفَرِ شَرْحُ النُّقَايَةِ لِلْقَارِي فَلَوْ عَكَسَ فَأَحْرَمَ لِلْحَجِّ مِنْ الْحِلِّ أَوْ لِلْعُمْرَةِ مِنْ الْحَرَمِ لَزِمَهُ دَمٌ إلَّا إذَا عَادَ مُلَبِّيًا إلَى الْمِيقَاتِ الْمَشْرُوعِ لَهُ كَمَا فِي اللُّبَابِ وَغَيْرِهِ۔” (رد المحتار مع الدر ج۴ ص۴٨۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٦/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٧/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh