Fatwa #1000
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,122
سوال (Question):
اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں
السلام عليكم ورحمت اللہ وبرکاتہ حضرت اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں۔ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابــــــــــ حالت حیض میں نکاح کرنا جائز ہے ۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا:نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ جواب ارشاد فرماتے ہیں: حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے ۔ کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں ۔ اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت، تو جواز یقینی ہے ۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے ۔ (حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۴ ص۳۶۵ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اب رہا سوال یہ کہ ان سے ہمبستری کرنا کیسا تو یہ ناجائز و حرام ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ } اے محبوب! تم سے حَیض کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندی چیز ہے تو حَیض میں عورتوں سے بچو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں تو جب پاک ہو جائیں ان کے پاس اس جگہ سے آؤ جس کا ﷲ نے تمہیں حکم دیا بیشکﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔ بہار شریعت میں ہے : ہم بستری یعنی جماع اس حالت میں (حالت حیض میں) حرام ہے ۔ ایسی حالت میں جِماع جائز جاننا کفر ہے ۔ اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سَخْت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے ۔ اور آمد کے زمانہ میں کیا تو ایک دینار اور قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مُسْتَحَب۔ (بہار شریعت ج۱ ح۲ ص۳۸۱ مکتبہ المدینہ کراچی) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ۔ کتبہ : فقیر محمد اشفاق عطاری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9