صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1247 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اگر کسی کے مرنے کے بعد صرف بھتیجے ہوں تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,067

سوال (Question):

اگر کسی کے مرنے کے بعد صرف بھتیجے ہوں تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر کسی کے مرنے کے بعد صرف بھتیجے ہوں تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں: کہ زید صاحب اولاد نہیں تھا، اس کی میت کے بعد پوری جائیداد کا مالک اس کی بیوی ہوئی۔ اب بیوی کے انتقال کے بعد جائداد کا مالک کون ہوگا؟ واضح رہے کہ زید کے بھتیجے اور زید کی بیوی کے بھتیجے ابھی باحیات ہیں۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ المستفتی :- ابو سفیان ممبیٔ الجوابــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں بیوی کا پوری جائیداد کا وارث ہوجانا سخت محلِّ نظر بات ہے؛ اس لیے کہ جب زید کے بھتیجے تھے تو زید کی بیوی کس طرح اس کی پوری جائیداد کی مالک ہوئی؟ ہاں! ایک بعید صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بیوی کا دین مہر زید کے ذمہ باقی رہا ہو اور وہ اتنا زیادہ ہو کہ تجہیز و تکفین کے بعد پورے ترکہ کے برابر یا زائد رہا ہو اور اس نے دین کی وصولی میں سب لے لیا ہو، لیکن تب یہ مالک ہونا دین کی وصولی کے طور پر ہوگا نہ کہ وراثت کے طور پر۔ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زید کے بھتیجے وغیرہ کسی مانع وراثت امر کے باعث ترکہ کے حق دار نہ رہے ہوں، اس لیے بیوی کو پوری جائیداد مل گئی ہو۔یہ دوسری صورت غایت درجہ مستبعد ہے۔کما لا یخفی علی من لہ خبرة بہذا الفن الشریف۔ بہر حال اگر کسی جائز طریقہ پر زید کی بیوی اس کی تمام جائیداد کی وارث بنی ہو اور بھتیجوں کے علاوہ کوئی قریبی عصبہ مثلا دادا یا بھائی وغیرہ یوں ہی مقررہ حصہ پانے والے یعنی: بہن ماں دادی نانی وغیرہ نہ ہوں تو تجہیز و تکفین کے مصارف اور دیون کی ادائیگی نیز وصیت بقدر نافذ پوری کرنے کے بعد اس کا مال بھتیجوں کی تعداد کے برابر اتنے حصے کرکے ان سب میں برابر برابر تقسیم کردیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے: “الحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر”. یعنی: متعینہ حصے حصہ داروں کو دیدو پھر جو بچے تو وہ سب، سب سے قریبی مرد کا ہے۔(صحیح البخاری، باب میراث الولد من ابیہ وامہ ج ٢ص ٩٩٧ مطبوعہ مجلس برکات ۔صحیح مسلم کتاب الفرائض ج ٢ ص ٣۴مطبوعہ مجلس برکات) علم المیراث کی مشہور کتاب”سراجیہ” میں عصبہ بنفسہ کے بیان میں ہے: “وھم اربعة اصناف، جزء المیت ، واصلہ، وجزء ابیہ، وجزء جدہ، الاقرب فالاقرب، یرجحون بقرب الدرجة، اعنی: اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون، ثم بنوھم وان سفلوا۔۔۔” (سراجیہ، باب العصبات) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh