صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2533 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

اگر کوئی مسلمان اہل ہنود کے قومی تہواروں میں شامل ہو اور ماتھے پر قشقہ لگائے تو اس پر کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,610

سوال (Question):

اگر کوئی مسلمان اہل ہنود کے قومی تہواروں میں شامل ہو اور ماتھے پر قشقہ لگائے تو اس پر کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر کوئی مسلمان اہل ہنود کے قومی تہواروں میں شامل ہو اور ماتھے پر قشقہ لگائے تو اس پر کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے کہ مسجد کا صدر یا کوئی بھی مسلمان شخص درگا پوجا اور بھاگوت گیتا کے پروگرام میں جائے یا غیر مسلمانوں کے دھارمک پروگرام میں جائے انکے پرساد کو کھاۓ ماتھے پر ٹیکا لگوائے اور اسے بھائی چارے کے لئے ضروری کہتا ہو ایسے صدر یا مسلمان شخص کے لئے شریعت کا کیا حکم ہوگا جواب سے نوازیں بڑی مہر بانی ہوگی سـائل : محمّد عرفان رضا قادری یو پی مرادآباد انڈیا بسـم اللـہ الرحـمٰن الرحـیم

الجــوابــــــــــ بعون الملک الوہاب

ہندوؤں کے قومی تہوار میں جانا ناجائز و حرام اور بہت بڑا گناہ اور کافر کے مذہبی شعار کو اختیار کرنا ضرور کفر ہے مذہبی شعار کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز ان کے مذہب میں عبادت ہو یا وہ چیز ان کے مذہب کی رو سے ان کے مذہب کی علامت ہو اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں ماتھے پر قشقہ لگانا خاص شعار کفر ہے اور اپنے لیئے جو شعار کفر پر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ) من شبہ بقوم فھو منہ ) جو کسی قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے *لالاشباہ و النظائر میں ہے عبادۃ الصنم کفر ولا اعتبار بما فی قلبہ:: اھ”” فتاوی رضویہ جلد نہم نصف آخر صفحہ ۳۱۶) اور حضرت علامہ حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں *(من ھزل بلفظ کفر ارتد و ان لم یعتقدہ للاستخفاف اھ ( در مختار مع شامی جلد سوم صفحہ ۳۱۰) پہر ردالمحتار صفحہ ۳۱۲پر ہے ( الحاصل ان من تکلم بکلمۃ الکفر ھاز لا او لاعبا کفر عندالکل ولا اعتبار باعتقادہ کما صرح بہ فی الخانیۃ اھ”” لہذا اگر واقعی زید میں مذکورہ باتیں پائی گئیں تو وہ اسلام سے خارج ہو گیا اگر چہ یہ سب کام اس نے اوپر کے دل سے کیا ہو اسے کلمہ پڑھاکر علانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے اور اگر وہ بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے ( فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۱۳) واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب کتبـــــہ: محمد شـــفیق عالم گورکھپوری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh