Fatwa #1751
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
ایسی دعا جس سے باری تعالی کی طرف بھول کی نسبت لازم آئے ناجائز ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,321
سوال (Question):
ایسی دعا جس سے باری تعالی کی طرف بھول کی نسبت لازم آئے ناجائز ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایسی دعا جس سے باری تعالی کی طرف بھول کی نسبت لازم آئے ناجائز ہے
السلام علیکم! کوئی امام صاحب دعا میں کہتے ہیں: ” اے خدا ! ہم تجھے بھول گیے تو نہ ہمیں بھول جا” باقی ان کی نیت کا ہمیں کوئی پتہ نہیں۔ ان پر کیا حکم ہوگا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ اللہ تعالی نسیان اور بھول سے پاک ہے، نسیان اور بھول اللہ تعالی کے لیے محال ہے، کیوں کہ نسیان اور بھول نقص ہے اور نقص باری تعالی کے لیے محال ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: “لا یضل ربی ولا ینسی” (سورہ طہ آیت نمبر ۵٢) علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “یستحیل الکذب و کذا سائر سمات النقص علیہ تعالی” (المعتقد المنتقد ص٦١) نیز تحریر فرماتے ہیں: “قال ابن ابی الشریف فی شرحہ: بل یستحیل علیہ کل صفة لا کمال فیہا ولا نقص؛ لان کلا من صفات اللہ صفة کمال۔ وفیہ ایضا: لا خلاف بین الاشعریة وغیرھم فی ان کل ما کان وصف نقص فی حق العباد فالباری تعالی عنہ منزہ، وھو محال علیہ تعالی” (المعتقد المنتقد ص٦٢) اور محال کی دعا حرام ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “محالات عادیہ و محالات شرعیہ کی دُعا حرام ہے۔” (بہار شریعت ح٣ص۵٣٩) اب چوں کہ دعا ایسی ہی چیز کی ہونی چاہیے جو ممکن ہو لہذا باری تعالی سے بھول نہ جانے کی طلب و دعا اس بات کو مستلزم ہے کہ ایسی دعا کرنے والا باری تعالی کے لیے بھول کو ممکن مانتا ہے۔ لہذا ایسی دعا ناجائز اور ایسی دعا سے احتراز لازم ہے۔ پھر اس طرح کی دعا اگر اس عقیدہ کے ساتھ ہو کہ باری تعالی سے نسیان اور بھول کا صدور ہوتا ہے تو یہ کفر ہے۔ صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “کوئی شخص بیمار نہیں ہوتا ، یا بہت بوڑھا ہے مرتا نہیں ، اس کے لیے یہ کہنا کہ اسے اللہ میاں بھول گئے ہیں۔ یا کسی زبان دراز آدمی سے یہ کہنا کہ خدا تمھاری زبان کا مقابلہ کرہی نہیں سکتا، میں کس طرح کروں یہ کفر ہے۔” (بہار شریعت ح٩ ص۴٦۴) امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “انَّ فِعْلَ الشَّيْءِ إذا كانَ مُمْتَنِعًا لَمْ يَجُزْ طَلَبُ الِامْتِناعِ مِنهُ عَلى سَبِيلِ الدُّعاءِ والتَّضَرُّعِ، ويَصِيرُ ذَلِكَ جارِيًا مَجْرى مَن يَقُولُ في دُعائِهِ وتَضَرُّعِهِ: رَبَّنا لا تَجْمَعْ بَيْنَ الضِّدَّيْنِ ولا تَقْلِبِ القَدِيمَ مُحْدَثًا۔” (التفسیر الکبیر، سورہ بقرہ، آیت: “۔۔۔ولا تحملنا مالا طاقة لنا۔۔۔”) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢٧/اپریل ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9