صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1355 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,522

سوال (Question):

ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟

سوال : ایسے آدمی کی دعوت قبول کرنا یا اس سے چندہ لینا جس کے پاس حلا ل و حرام دونوں قسم کا مال ہو کیسا ہے ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ بعینہ مال حرام سے چندہ دے رہا ہے ۔یا دعوت کرارہا ہے اس وقت تک اس سے چندہ لینا اور اس کے یہاں دعوت کھانا ۔اس کا ہدیہ قبول کرنا سب جائزو درست ہے مگر اس سب سے بچنا اولی ہے کہ خواہ مخواہ لوگ بدگمانی کے شکار ہونگے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے “جائز بایں معنی تو ہے کہ کھاے گا تو کوئی شئ حرام نہ کھائی جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ شئ جو میرے سامنے آئی بعینہ حرام ہے ۔ بہ ناخذ مالم نعرف شیا حرام بعینہ نص علیہ محررالمذھب الامام محمد رحمہ اللہ تعالی کمافی الذخیرہ وغیرھا. مگر احتراز اولی خصوصا جب کہ غالب حرام ہو خروجا عن الخلاف وکما فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الامام ابی جعفر احب الی فی دینہ ان لا یاکل ویسعہ حکما ان لم یکن ذلک الطعام غصبا ورشوۃ “اھ (فتاوی رضویہ. ج. 9 ص. 106 ) کتبـــــــہ: شاہد رضا امجدی جامعی بالپور بازار گونڈا

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh