صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #881 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ایل آئی سی کی رقم میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ / زکوۃ کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,441

سوال (Question):

ایل آئی سی کی رقم میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ / زکوۃ کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایل آئی سی کی رقم میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

سوال : مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ایل آئی سی، سی پی ایف اور ایریر پر بھی زکوۃ کا حکم ہے ۔ اب معلوم ہوا تو 1975 سے لے کر جون 2006 تک کا ایریر، ایل آئی سی اور سی پی ایف کی پوری تفصیل پیش کر رہا ہوں ۔ اس کے بارے میں بتائیں کہ ان رقوم پر مجھے کتنی زکاۃ دینی ہوگی ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ سی پی ایف اور ایل آئ سی وغیرہ رقوم کا جو تفصیلی چاٹ پیش کیا ہے وہ کچھ پیچیدہ اور وقت طلب ہے ۔ آپ ہر سال کا ٹوٹل خود تیار کریں ۔ جب تمام سالوں کی رقوم کا ٹوٹل الگ الگ تیار ہوجائے تو پہلے سال کے ٹوٹل میں سے اس کی زکوۃ ڈھائی فیصد نکالیں، مثلا پہلے سال کا ٹوٹل ہے بارہ سو روپے اور دوسرے سال کا ٹوٹل ہے دو ہزار پچیس روپے ۔ پہلے سال کے ٹوٹل کی زکوۃ 30 روپے ہوئ وہ تیس روپے دوسرے سال کے ٹوٹل سے گھٹا دیں تو دوسرے سال کا باقی ٹوٹل 1995 روپے ہوگا, اب اس کی زکوۃ تقریبا پچاس روپے ہیں وہ پچاس روپے تیسرے سال کے ٹوٹل سے گھٹا کر بقیہ کی زکوٰۃ نکالیں اسی طرح گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کریں ۔ ہمارے پاس نہ تو پچھلے سالوں کا چاندی کا ریٹ ہے اور نہ ہی یہ معلوم کہ ان سالوں میں کتنے روپے پر زکوۃ فرض ہوتی تھی، اور نہ یہ معلوم کہ آپ مالک نصاب تھے یا نہیں، لیکن عبادات میں احتیاط پر عمل واجب ہے ۔ ممکن ہے کہ 1975/1976 عیسوی میں بارہ سو روپے پر 56 روپے بھر چاندی کا نصاب زکوۃ پورا ہو جاتا ہو ، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ آپ ٧٥ عیسوی سے لے کر آج تک کے تمام سالوں کی زکوۃ درج بالا طریقے پر ادا کریں۔ اگر بالفرض ان دنوں میں آپ پر زکوۃ فرض نہ رہی ہو تو یہ آپ کی طرف سے اللہ تعالی کے راستے میں ایک صدقہ ہوگا ۔ جو ثواب کے ساتھ ساتھ فوائد اور برکات کا وسیلہ ہوتا ہے ۔ پھر دل کو بھی اطمینان حاصل ہو گا کہ ہم نے اللہ تعالی کے واجب کردہ حق مال کو ضرور ادا کر دیا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh