صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1245 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ایک بھائی اور اس کی بیوہ ہو تو وراثت کیسے تقسیم ہوگی / وراثت کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,856

سوال (Question):

ایک بھائی اور اس کی بیوہ ہو تو وراثت کیسے تقسیم ہوگی / وراثت کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایک بھائی اور اس کی بیوہ ہو تو وراثت کیسے تقسیم ہوگی

وراثت سے متعلق مسئلہ سوال : ایک آدمی کی وفات ھو گئ اس کی اولاد نہیں ھے وراثاء میں بیوہ ایک سگا بھائ ھے وراثت کی تقسیم کیسے ھو گی؟ جس بے اولاد کی وفات ھوئی وہ تین بھائی تھے ایک بھائی اسکی زندگی میں فوت ھو گیا تھا ایک بھائی ابھی حیات ھے تو وراثت کی تقسیم کیسے ھو گی؟ المستفتی عبید الرحمن قادری کرناٹک الجواب بعون الملک الوھاب بر تقدیر صحت سوال ، وبعد تقدیم مایقدم علی الارث ، متوفی کی کل جائداد کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک چوتھائی حصہ [١/٤] متوفی کی بیوی کو دیں کیوں کہ فرمان خداوند قدوس ہے : وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ (سورہٴ نساء:١٢) اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو. اور باقی بچے ہوئے تین حصے [3/4] متوفی کے بھائی کو دیں کیوں کہ میت کی اولاد اور باپ دادا کے نہ ہونے کی صورت میں بھائی بطور عصبہ بنفسہ ترکہ سے بچا ہوا مال کا مستحق ہوگا ۔ مثلاً اگر متوفی کے ترکہ میں کل ایک سو روپیے(١٠٠) ہیں تو ایک چوتھائی یعنی پچیس روپیے(٢٥) بیوی کو دیں گے اور باقی ماندہ پچہتر روپیےبھائی کےلئے ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب . کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٣جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ /٢٧جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh