Fatwa #1444
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,221
سوال (Question):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ ربع [١/٤] ہے،ارشادہے ” وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۲) اور تمہارے ترکہ میں بیویوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو. ماں کا حصہ بطورِ فرض ثلث مابقی [١/٣] ہے،یعنی بیوی کو دینے کے بعد جو بچے گا اس کا ثلث ماں کو ملے گا، الله کا فرمان ہے “فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) (ترجمہ: پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ ہے.) بہار شریعت میں ہے : اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھرجو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا۔(ح بستم ،ص ١١٣٤) اور باپ یہاں عصبہ محض ہوگا. کل ترکہ کو ١٢حصوں میں تقسیم کرکے ٣ حصہ بیوی کو دیں گے ، باقی ماندہ ترکہ ٩ سے ایک تہائی یعنی ٣ حصہ ماں کو دیں گے ، پھر بقیہ ٦ حصہ باپ کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9