صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1443 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,115

سوال (Question):

ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟

الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين بیٹی بطور فرض نصف[١/٢] حصہ کی مستحق ہوگی. ارشاد ہے “وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ” (سورہ نساء، آیت : ۱۱) (ترجمہ : اور اگر بیٹی ایک ہے تو اس کےلئے نصف حصہ ہے.) ماں کے لئے ترکہ سے ایک سدس [١/٦] حصہ ہوگا “وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ” (ترجمہ : اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کوئی اولاد ہو.) اور بھائی عصبہ بنفسہ ہوگا۔ متوفی کے کل ترکہ کو ٦ حصوں میں تقسیم کریں گے، ٣ بیٹی کو دیں گے، ١ ماں کو اور باقی ٢ حصے بھائی کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh