صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #828 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟ کیا ایک مشت سے کم داڑھی ہوتی ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,452

سوال (Question):

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟ کیا ایک مشت سے کم داڑھی ہوتی ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟

سوال : کیا حکم ہے اس بارے میں کہ کچھ لوگ داڑھی بہت مختصر رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ میری داڑھی ہے تو آخر داڑھی کسے کہتے ہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ یہ ان کی داڑھی تو ہوسکتی ہے لیکن ایک کامل مسلمان کی داڑھی نہیں ہوسکتی ہے ، ایک مومن کامل کی داڑھی تو وہی ہے جو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے طریقے کے مطابق ہو، اور آقا کا طریقہ یہ ہے کہ داڑھی کم از کم ایک مشت ہو اس سے زیادہ ہو تو کوئی حرج نہیں ، لیکن طویل فاحش نہ ہو کہ چہرہ بھیانک ہو جائے اور بچے دیکھیں تو ڈریں ۔ اگر داڑھی کٹانے سے ایک مشت سے کم ہوگی تو خلاف سنت ہے اور باعثِ گناہ ہے صحیح بخاری میں ہے عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : خالفوا المشرکین، وفروا اللحی واحفوا الشوارب ،وکان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل اخذہ حضرت ابن عباس اس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب حج یا عمرہ فرماتے تو اپنی داڑھی کو ایک مٹھی میں پکڑ لیتے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کم کر دیتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کا حکم دے دیں وہ واجب ہوجاتا ہے ،اس لیے داڑھی بڑھانا واجب ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا عمل شاہد ہے کہ یہ وجوب ایک مشت کی حد تک ہے اور اس سے فاضل بال کاٹ دینا سنت ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتـــــــــبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh