صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1167 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,520

سوال (Question):

ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟

سوال  : ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں سے برابر برابر ادھار یا نقد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایک کنٹل گیہوں کو ایک کنٹل گیہوں سے بیچنا جائز نہیں چاہے ادھار بیچے یا نقد ۔ ادھار تو اس لیے ناجائز و حرام ہے کہ دونوں قدر و جنس میں متحد ہیں اور اس صورت میں کمی بیشی اور ادھار دونوں صورتیں حرام ہوتی ہے ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ١٠٧ میں ہے۔ ان وجدالقدروالجنس حرم الفضل والنساء ۔ اور نقد اس لئے حرام و ناجائز ہے کہ گیہوں عند عندالشرع وزنی چیز نہیں ہے بلکہ کیلی ہے لہذا اسے پیمانہ ہی سے ناپ کر ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز ہے وزن سے ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ ١٠٧ میں ہے کہ ” لوباع البر بجنسہ متساویا وزنا لم یجز ۔ اور ہدایہ جلد ثالث صفحہ ٦٤ میں ہے” لوباع الحنطۃ بجنسھا متساویا وزنا لا یجوز عندھما (ای الطرفین) وان تعارفوا ذالک لتوھم الفضل علی ما ھوالمعیار فیہ کما اذا باع مجازفۃ اھ۔” وھو تعالی ورسولہ الا اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کتبــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh