صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2417 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

باجی مظفر کے متعلق شرعی حکم

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,643

سوال (Question):

باجی مظفر کے متعلق شرعی حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

باجی مظفر کے متعلق شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حامدا ومصليا ومسلما،تمام خوبیاں اور کمالات اس ذات وحدہ لا شریك له کے لیے جس نے تمام کائنات کو وجود بخشا پھر انسانوں کو اس میں اشرف المخلوقات کے منصب سے سرفراز فرمایا اور کسی بھی لمحہ انہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا بلکہ ان کی رشد وہدایت کے لیے اپنے مقرب بندوں کو رہبرورہنما بنا کر مبعوث فرماتا رہا حضرت آدم علیہ الصلاة والسلام سے لیکر حضور سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک متعدد انبیائے ومرسلین عظام علیہم الصلاة والسلام تشریف لائے جنہوں نے اپنا فریضہ تبلیغ بحسن وخوبی انجام دیا لیکن حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر آکر سلسلہ نبوت ورسالت ختم ہوجاتا ہے اللہ رب العزت نے آپکو بے شمار خوبیوں اور کمالات سے نواز کر آخری نبی بناکر مبعوث فرمایا آپ علیہ الصلاة والسلام کے بعد جو کوئی نبوت کا دعوی کرے یا یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہوسکتا ہے تو ایسا شخص کافر ومرتد ہے اب وہ بغیر توبہ کے کروڑوں بار بھی کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنے آپکو مسلمان ظاہر کرے ہرگز مسلمان نہیں- حضور علیہ الصلاة والسلام کے بعد دعوت و تبلیغ کا فریضہ آپکی امت کے علمائے کرام کے سپرد ہوتا ہے یعنی جو فریضہ تبلیغ مختلف ادوار میں انبیائے کرام علیہم الصلاة والسلام انجام دیتے رہے وہ اب آپ علیہ الصلاة والسلام کی امت کے علمائے کرام انجام دیں گے جن کے بارے میں آپ علیہ الصلاة والسلام کا ارشاد مبارک ہے “العلماء ورثة الأنبياء” یعنی علمائے کرام انبیائے عظام کے علم وحکمت کے وارث ہیں- تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مبلغین اسلام کو اس راہ میں بڑی ابتلا و آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اور بڑی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ لیکن توفیق الہی سے کبھی بھی ان کے پائے ثبات متزلزل نہیں ہوئے۔ جب بھی کسی فتنے نے سر اٹھانے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کے سد باب کے لئے بھرپور کوشش کر کے اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ علمائے ربانیین نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرلیں لیکن احقاق حق و ابطال باطل کا فریضہ انجام دینے میں کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ہمارے زمانے میں چونکہ فتنوں کی کثرت ہے، آئے دن نت نئے فتنے جنم لیتے رہتے ہیں، ایک طرف ہمارے ملک کے کچھ شر پسند عناصر حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور اولیائے عظام کی شان میں گستاخی و بے ادبی کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں اور ملکی امن و امان کو پارہ پارہ کر رہے ہیں۔ اور دوسری طرف کچھ بنام مسلم اللہ و رسول و صحابہ کرام و اولیائے عظام کی شان میں گستاخی و بے ادبی کر کے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہاں کے غیر مسلم شر پسندوں کو بھی اللہ و رسول کی شان میں گستاخی و بے ادبی کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں. ان سب پر مستزاد ایک فتنہ جعلی پیروں کا ہے جنہیں احکام شریعت سے دور دور کی بھی واقفیت نہیں اور سادہ لوح مسلمان ان کو ولی مان کر ان سے بیعت ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کی خیر خواہی کے پیشِ نظر ذیل کی سطور میں پیر کے شرائط اور موجودہ دور کے ایک جعلی پیر کے فتنہ سے عوام اہل سنت کو متنبہ کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ پیر ہونے کے لیے کچھ شرطیں ہیں کہ ہر پیر کو ان شرائط کا جامع ہونا ضروری ہے- اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں”پیر میں چار شرطیں لازم ہیں۔ اول سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علمائے حرمین شریفین ہو- یعنی بمطابق فتاوی حسام الحرمین۔ دوسرے اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل خود کتاب سے نکال سکے- تیسرے فاسق معلن نہ ہو – چوتھے اس کا سلسلہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک متصل ہو”( فتاوی رضویہ ج ۱۲ ص ۲۷۰) لہذا جو مذکورہ بالا شرائط کا جامع ہو وہی پیر ہوسکتا ہے ورنہ وہ جعلی پیر ہے جو ہرگز سچا پیر نہیں ہوسکتا ۔ آج کل کے بہت سے جعلی پیروں کا تو حال یہ ہے کہ صوفیت کا لبادہ اوڑھ کر مسلک حق اہل سنت و جماعت کو داغ دار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ادھر فرقہائے باطلہ مثلا وہابیہ دیابنہ وغیرہ ان جعلی پیروں کے غیر شرعی اقوال و افعال کو بیرون ہند ممالک میں پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ مشرک و بدعتی جماعت ہے۔ اور ہم ہی اہل حق و اہل سنت ہیں۔ اس طرح وہ اہلسنت کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عقائد باطلہ پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن، حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے اہل خرد اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ شریعت کے باغی جعلی پیر مسلک حق اہل سنت و جماعت کے نمائندہ ہرگز نہیں ہیں۔ پھر وہابیہ دیابنہ کا انہیں اہل سنت کے کھاتے میں ڈال کر اہل سنت و جماعت کو مشرک و بدعتی گرداننا سخت حماقت نہیں تو اور کیا ہے- آج ہمیں جس فتنے کو بے نقاب کرنا ہے وہ باجی مظفر بروئی کالا کوٹ والا جعلی پیر ہے۔ جو گزشتہ کئی سالوں سے شریعت مصطفے صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بغاوت کررہا ہے۔ جن چیزوں کو شریعت میں حرام قرار دیا گیا ہے وہ انہیں جائز کہتا ہے۔ صرف اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ لوگوں سے کہتا ہے کہ ان کے کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ اور شرعا جو چیزیں جائز ہیں وہ انہیں ناجائز کہتا ہے۔ قائد اہل سنت ناشر مسلک اعلی حضرت حضرت العلام علامہ دل محمد فتح پوری نور ﷲ مرقدہ جنہیں ﷲ رب العزت نے حق بیانی کی وجہ سے عزت و سرخروئی عطا فرمائی۔آپ اپنی حیات مبارکہ کے آخری لمحات تک جہاں دیگر فتنوں کی سرکوبی کرتے رہے وہیں اس جعلی پیر کے فتنے سے بھی لوگوں کو بچنے کی بار بار تاکید کرتے رہے۔ ابھی چند دن سے اسی جعلی پیر کی ایک آڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے۔ جس میں اس نے خلاف شرع باتیں بھی کہی ہیں۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ کسی گاؤں میں ڈھول باجے بجائے گئے جس پر وہاں کے علما نے اس کے سد باب کے لیے سخت کاروائی کرنی چاہی لیکن اسی گاؤں کا ایک جاہل سرپنچ فون کرکے جاہل پیر معروف بہ باجی مظفر سے مسائل پوچھتا ہے اس جعلی پیر نے شریعت کا مذاق اڑایا،سرپنچ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور پھر اس آڈیو کلپ کو سوشل میڈیا پر وائرل کرتا ہے۔ علمائے کرام نے نوٹس جاری کر کے مذکور جعلی پیر کو شرعی عدالت میں حاضر ہونے کا مطالبہ کیا کہ اپنے غیر شرعی اقوال سے توبہ ورجوع کرے۔ایک ہفتہ کی مہلت دی گئ تھی لیکن باجی نہ آیا اور نہ ہی ابھی تک اس نے اپنے غیر شرعی اقوال سے توبہ ورجوع کیا ہے۔ پھر اس مہلت کے بعد لوگ منتظر تھے کہ علمائے کرام کی طرف سے متفقہ طور پر کوئی حتمی فیصلہ آئے گا لیکن اب زیادہ تاخیر ہوجانے پر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مولویوں کو باجی نے خرید لیا ہے اور نذرانے دے کر صلح کر لی ہے۔ میں علمائے اہل سنت کا ادنی خادم اور جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی کا ادنی فرزند ہونے کی حیثیت سے باجی مظفر کے غیر شرعی اقوال کے متعلق احکام شریعت رقم کر کے لوگوں کے اس وہم”کہ مولویوں نے باجی سے نذرانے لے کر صلح کر لی ہے” کا ازالہ کررہا ہوں۔ ہر سچا مسلمان اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ علمائے حق شریعت مصطفیٰ صلی ﷲ علیہ وسلم کے باغی جعلی پیروں سے صلح کرلیں۔ کیونکہ فتنوں کا سدباب ہر عالم دین پر اپنی استطاعت کے مطابق لازم ہے۔بلکہ جو عالم فتنوں کے ظہور کے وقت اپنے علم کا اظہار کر کے فتنوں کو روکنے کی کوشش نہ کرے وہ ﷲ رب العزت اور ملائکہ کرام اور تمام لوگوں کی لعنت کا مستحق ہے۔ اور ﷲ رب العزت اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا، نہ فرض نہ نفل۔ حدیث شریف میں ہے”اذا ظهرت الفتن او قال البدع وسب اصحابي فليظهر العالم علمه فمن لم يفعل ذالك فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، ولا يقبل الله له صرفا ولا عدلا”(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ،ج ۹،ص ۳۸۷۶ /المكتبة الشاملة الحديثة) اب ہم مذکور جعلی پیر کے غیر شرعی اقوال کو نقل کر کے ان کے متعلق شرعی احکام تحریر کرتے ہیں۔ (۱) باجی احکام شرعیہ بتانے مثلا لوگوں کو ڈھول باجے وغیرہ خرافات سے منع کرنے پر علمائے کرام کو شیطان کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تم ڈھول بجانے پر فتوی لگاتے ہو اگر تم میں دم ہے جاؤ اپنی ماں کے خصم مودی پر فتوی لگاؤ جو تمہاری مسجدوں کو گرا رہا ہے اور کہتا ہے کہ لاکھ لعنت ہو تم پر کہ ڈھول بجانے پر لوگوں پر فتوی لگاتے ہو جبکہ اس پر کوئی پابندی نہیں- (۱) فأقول وبالله التوفيق:- مذکور جعلی پیر کے مندرجہ بالا جملوں میں علمائے دین کی سخت کھلی ہوئی توہین ہے اور علمائے دین کی توہین کفر ہے- حضرت علامہ علی قاری علیہ الرحمة البارى شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں :- وفي الخلاصة : من أبغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر – قلت : الظاهر أنه يكفر لأنه اذا أبغض العالم من غير سبب دنيوي أو أخروي فيكون بغضه لعلم الشريعة: ولاشك في كفر من أنكره، فضلا عمن أبغضه- وفي الظهيرية: من قال لفقيه أخذ شاربه: ما أعجب قبيحا أو أشد قبيحا قص الشارب ولف طرف العمامة تحت الذقن يكفر، لأنه استخفاف بالعلماء، يعني وهو مستلزم لاستخفاف الأنبياء عليهم السلام، لان العلماء ورثة الأنبياء عليهم السلام”(منح الروض الأزهر في شرح الفقه الأكبر، ص ۴۷۰/دار البشائر الاسلامیة،بيروت- لبنان) الأشباه والنظائر میں ہے”الاستھزاء بالعلم والعلماء کفر”(ج ۲ ص ۲۰۲ /المکتبة الاسلامية) اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں :- “اور مطلقا علمائے دین یا کسی عالم دین کو ان کے عالم ہونے کے سبب برا کہنا، یا شریعت مطہرہ کی ادنی توہین کرنا یہ تو یقینا قطعا کفروارتداد ہے”(فتاوی رضویہ ج ۱۴ ص ۵۷۰ مترجم) نیز فرماتے ہیں” مطلقا علما کو یا خاص کسی عالم کو بوجہ علم دین برا کہنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے-عورت فورا نکاح سے نکل جاتی ہے”(فتاوی رضویہ ج ۶ ص ۱۵۴) (۲) باجی کہتا ہے کہ ڈھول باجے کی ممانعت کا نہ اللہ رب العزت کے قرآن سے ثبوت نہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی حدیثوں سے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے بلکہ مولویوں نے صرف اپنی روزی روٹی کے لیے یہ ڈھونگ رچا رکھا ہے، اور کہتا ہے کہ ڈھول بجانا دف بجانے کی طرح جائز ہے- (۲)فأقول وبالله التوفيق:- اس پر گزارش ہےکہ یہ جعلی پیر در حقیقت بغض علما میں اندھا ہوچکا ہے اگر اندھا نہ ہوا ہوتا تو پھر قرآن وحدیث کی صراحت خود دیکھ لیتا اور خود پڑھ کر جان جاتا یا علما سے معلوم کرلیتا اور اپنی جہالت کا ثبوت نہ دیتا کیونکہ ڈھول باجے بجانے کی ممانعت قرآن وحدیث سے ثابت ہے- ارشاد باری تعالی ہے”ومن الناس من يشترى لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم ويتخذها هزوا آولئك لهم عذاب مهين”(سورہ لقمان:آیت:۶)ترجمہ:-اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے”(کنز الایمان ص ۷۴۰) لهو الحديث،سے متعلق تفسیر الجامع لأحكام القران للقرطبي میں ہے”الغناء والمزامیر”(ج ۱۴ ص ۵۱/المكتبة الشيعية) یعنی لھوالحدیث سے مراد ناچ گانا اور آلات موسیقی(ڈھول،باجا،سارنگی وغیرہ) ہیں- لفظ “لھو” کے متعلق حضور صدر الافاضل فخر الاماثل علامہ نعیم الملة والدین قدس سرہ العزیر تحریر فرماتے ہیں”لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے کہانیاں افسانے اسی میں داخل ہیں”(تفسیر خزائن العرفان مع کنز الایمان ص ۷۴۰) حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں”ليكونن من امتى اقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف”(صحیح بخاری: کتاب الاشربہ: باب ماجاء فیمن یستحل الخمر ویسمیه بغير اسمه:رقم الحدیث : ۵۵۹۰) یعنی ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونے والے ہیں کہ حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو- ایک اور مقام پر نبی کریم رؤف الرحيم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:- “عن أبي امامة رضى الله عنه، قال: قال النبی صلى الله عليه وسلم : ان الله تعالی بعثني رحمة للعالمين، وأمرني ربی عزوجل بمحق المعازف والمزامير والأوثان والصلب” (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،ج ۶ ص ۲۳۹۰ /كتاب الحدود /باب بيان الخمر ووعيد شاربها / المكتبة الاسلامية) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنے متعدد فتاوی میں ڈھول بجانے کی مروجہ صورت کو ناجائز و ممنوع تحریر فرمایا ہے اور اس کے بجانے والے کو فاسق قرار دیا ہے۔تحریر فرماتے ہیں: “ڈھولکی بجانے والا فاسق ہے۔” (فتاوی رضویہ جدید ج١۵ص١۵۴) “شرع مطہر نے شادی میں دف جس میں جلاجل نہ ہوں اور قانون موسیقی پر نہ بجائیں جائز رکھا ہے۔ ڈھول تاشے باجے جس طرح رائج ہیں جائز نہیں۔” (ایضاج٢١ص١۵٦) ایک اور جگہ لکھتے ہیں: “ڈھول بجاناحرام ہے۔” (ایضاج٢۴ص۴٧٧) مذکورہ بالا دلائل سے ڈھول باجے بجانے کی ممانعت مانند آفتاب روشن ہوجاتی ہے یہاں اختصار کے پیش نظر ہم نے صرف چند دلائل نقل کئے ہیں ورنہ اس سلسلہ میں مزید دلائل وشواہد اور بھی موجود ہیں- اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ “باجی کا یہ کہنا کہ اس کا ثبوت نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں یہ سراسر جھوٹ ہے بلکہ مولویوں نے صرف اپنی روزی روٹی کے لیے یہ ڈھونگ رچارکھا ہے” یہ باجی کی کھلی ہوئی جہالت ہے- باجی کا قرآن وحدیث سے ثابت حکم کو سراسر جھوٹ کہنا اور مولویوں کا اختراع کہنا حکم شرع کا انکار کرنا ہے اور اسے حقیر جاننا ہے اور حکم شرع کا انکار کرنا اور اسے ہلکا جاننا کفر ہے- علامہ عبد الغنی نابلسی قدس سرہ السامی تحریر فرماتے ہیں:- “الاستخفاف بالشريعة اى عدم المبالات بأحكامها واهانتها واحتقارها كفر”(الحديقة النديه،ج ۱ ص ۴۰۶ / مکتبة الحقيقة) یعنی شریعت کو ہلکا سمجھنا اس کے احکام کی پرواہ نہ کرنا اس کی توہین کرنا اسے حقیر جاننا یہ سب کفر ہے- رہا باجی کا ڈھول کو دف کی طرح کہنا تو یہ اس کی سخت جہالت ہے کیونکہ ڈھول باجے کی ممانعت قرآن وحدیث سے ثابت ہے جبکہ دف بجانے کا جواز خود احادیث سے ثابت ہے ۔یہ اور بات ہے کہ دف کا بجانا بھی مطلقا جائز نہیں بلکہ کچھ شرائط کے ساتھ ہے- امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی تحریر فرماتے ہیں :- “دف کہ بےجلاجل یعنی بے جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایا جائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں اور نہ ذی عزت عورتیں، بلکہ کنیزیں یا کم حیثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب ومندوب ہے”(فتاوی رضویہ مترجم ج ۲۱ ص ۶۴۲ /رضا فاؤنڈیشن لاہور) (۳) باجی کہتا ہے کہ “ڈھول بجانے میں کوئی پابندی نہیں،کوئی اپنی خوشی منائے تو اسے منانے کا حکم ہے،ڈھول باجے بجانے سے منع کرنا یہ غریب مسکین لوگوں پر ظلم ہے مولویو! اس سے باز آجاؤ ورنہ میں تمہارے خلاف اٹھ کھڑا ہوں گا اور سخت ایکشن لوں گا” (۳)فأقول وبالله التوفيق:- باجی کے یہ اقوال سخت ضلالت و جہالت پر مبنی ہیں یہ جعلی پیر غلط مسائل بتاکر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہی کی طرف دھکیل رہا ہے یہاں یہ بھی واضح رہے کہ جس طرح وہ جعلی پیر شرعا مجرم ہے یونہی وہ لوگ بھی مجرم ہیں جو علمائے اسلام سے مسائل پوچھنے کے بجائے اس جاہل پیر سے پوچھتے ہیں- حدیث شریف میں ہے ” من أفتى بغير علم كان اثمه على من أفتاه”(رواہ ابوداود) یعنی جس نے بغیر علم فتوی دیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے- اس حدیث مبارک کے تحت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی قدس سرہ السامی رقمطراز ہیں :- “اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جو شخص علما کو چھوڑ کر جاہلوں سے مسئلہ پوچھے اور وہ غلط مسئلہ بتائیں تو پوچھنے والا بھی گنہگار ہوگا کہ یہ عالم کو چھوڑ کر اس کے پاس کیوں گیا نہ یہ پوچھتا نہ وہ غلط بتاتا اس صورت میں من افتی بمعنی استفتی ہے- دوسرے یہ کہ جس شخص کو غلط فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے اس صورت میں پہلا أفتى مجہول ہے خلاصہ یہ ہے کہ بے علم کو مسئلہ شرعی بیان کرنا سخت جرم ہے”(مراة المناجيح شرح مشکاة المصابيح، ج ۱ ص ۲۰۵/ناشر: اسلامک پبلشر مٹیامحل، جامع مسجد دہلی)   (۴)باجی نے ڈھول باجے بجانے سے منع کرنے پر علمائے کرام کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ تم چودہویں صدی کے ملا ابھی تک باز نہیں آئے،تمہارا منہ دونوں جہانوں میں کالا ہوچکا ہے، تمہاری وجہ سے تمہاری مسجدوں کے اسپیکر بھی اتر گئے اور تمہاری وجہ سے آذان دینے پر بھی پابندی لگ گئی اور مسجدوں کے اندر مندر بننے لگ گئے- (۴)فأقول وبالله التوفيق:- باجی نے اپنے اس بیان میں علمائے کرام کے لیے جو بازاری زبان استعمال کی ہے اس سے اسکی بیہودگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں، مسلمانو! تم خود فیصلہ کرو کیا ایسا شخص ولی ہوسکتا ہے؟ میں تو کہتا ہوں کہ ولی ہونا دور کی بات ہے ایسا شخص سچا مسلمان بھی نہیں ہوسکتا ہے – اس جعلی پیر کا ملکی ظلم وستم کا سبب علمائے دین کو ٹھہرانا کتنی بڑی جرأت ہے حقیقت یہ ہے کہ علماء کرام نہیں ان جعلی پیروں کی وجہ سے ہی آج ہماری قوم اللہ ورسول کو چھوڑ کر گمراہی اور بےدینی کی طرف جارہی ہے اور جب بھی کوئی قوم اللہ ورسول کے احکام کی نافرمانی کرتی ہے تو اللہ تعالی ان پر ظالم حکمراں مسلط کردیتا ہے اس لیے اس کا سارا وبال ایسے ہی جعلی پیروں اور ان کے اندھے مریدوں کے سر جاتا ہے جو قرآن وسنت اور علمائے دین سے دور ہیں- (۵) باجی کہتا ہے کہ زکات کی رقم صرف غریبوں مسکینوں اور یتیموں کا حق ہے مدارس میں یہ رقم نہیں لگ سکتی اور مدرسہ میں اس کے دینے میں کوئی ثواب نہیں بلکہ سائل کو دینے میں ثواب ہے- (۵) فأقول وبالله التوفيق:-زکات و صدقات واجبہ کی رقم جس طرح دیگر غربا ومساکین وغیرہ کو دینا درست ہے اسی طرح مدارس کے غریب طلبہ کو دینا بھی درست ہے کیونکہ یہ بھی مصارف زکات میں سے ہیں ہاں مدرسہ کی تعمیر وغیرہ میں اور اسی طرح دیگر دینی کاموں میں خرچ کرنے کے لیے حیلہ شرعی کی ضرورت ہے- حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:- “زکاة کا روپیہ حیلہ شرعیہ سے نیک کاموں میں خرچ کرنا جائز ہے، مثلا فقیر کو روپیہ دیکر اسے مالک کردیا،پھر اس فقیر نے اس کے کہنے سے یا بطور خود مدرسہ یا مسجد کے مصارف کے لیے دیا، یا اس کو دوسری جنس کم قیمت سے خرید کر مدرسہ میں صرف کیا گیا تو زکاة ادا ہوجائے گی بلکہ دونوں کو ثواب ہوگا”(فتاوی امجدیہ ج ۱ ص ۳۸۸) مذکور جعلی پیر کو مدارس سے بہت بغض ہے اس لیے وہ لوگوں کو مدارس اور مساجد میں کچھ دینے سے روکتا ہے، مدارس سے ان جعلی پیروں کو خطرہ ہے کہ یہاں سے علما وفقہا تیار ہونگے تو وہ لوگوں کو ہماری مذموم حرکتوں سے آگاہ کریں گے ہمارے نذرانے بند ہوجائیں گے اور ہمارا جینا دشوار ہوجائے گا اسی وجہ سے یہ مدارس میں دینے سے روکتے ہیں- (۶) باجی کہتا ہے کہ میں تمہارے فتووں سے نہیں ڈرتا تم نے مجھ پر پہلے بھی کئی فتوے لگائے کچھ نہیں بگاڑ سکے- (۶) فأقول وبالله التوفيق:-فتوی شرعی فیصلہ ہوتا ہے یہ جعلی پیر یہ کہہ کر کہ “میں تمہارے فتووں سے نہیں ڈرتا” حکم شرع کو ماننے سے انکار کر رہا ہے اور اس کی تحقیر بھی کر رہا ہے حکم شرع کا انکار اور اس کی تحقیر کفر ہے- اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :- “اگر یہ بیان واقعی ہے تو خالد پر حکم کفر ہے، اور یہ کہ اس کا نکاح فسخ ہوگیا، اس پر توبہ فرض ہے نئے سرے سے اسلام لائے اس کے بعد اگر عورت راضی ہو اس سے دوبارہ نکاح کرے”(فتاوی رضویہ ج ۶ ص ۱۵۹) تاجدار اہلسنت سرکار مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز اسی کے مثل سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :- “اگر واقعی ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم شریعت کو نہیں مانتے تو بڑا سخت ظلم عظیم اپنی جانوں پر کیا- ان پر اپنے اس قول سے توبہ ورجوع تجدید ایمان وتجدید نکاح وغیرہ لازم”(فتاوی مصطفویہ ص ۴۶۴/مکتبہ فقیہ ملت دہلی) (۷) باجی کہتا ہے کہ میں حسینی ہوں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی تم نے کئی فتوے لگائے تھے کچھ بھی نہیں کرسکے-تم پر دنیا تھوکتی ہے اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو زندہ باد کہتی ہے- (۷)فأقول وبالله التوفيق:- معاذ اللہ ثم معاذا اللہ اس جعلی پیر کا علمائے کرام پر یہ الزام دھرنا کہ تم نے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی فتوے لگائے کس قدر جرأت اور جھوٹ پر مبنی بات ہے یہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے دنیا جانتی ہے کہ علمائے اہلسنت تو اسی دین کے تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں جسکی آبیاری امام عالی مقام نے اپنے خون جگر سے کی ہے، ہر مسلمان اہل بیت اطہار سے عقیدت ومحبت رکھتا ہے کیونکہ اہل بیت سے محبت کرنے کا حکم اللہ ورسول نے دیا ہے- تو ہر سنی ان سے محبت کو لازم جانتا ہے- اس کے برعکس اگر دیکھا جائے تو مذکور جعلی پیر ہی کے کام یزید جیسے ہیں وہ بھی ڈھول باجے بجواتا تھا اور یہ بھی بجواتا ہے یہ صرف بجواتا ہی نہیں بلکہ کہتا ہے کہ اس میں کوئی گناہ کوئی پابندی نہیں اور دوسروں کو بھی بجوانے کی اجازت دیتا ہے پھر بھی اپنے آپکو حسینی کہتا ہے، تف ہے ایسے پیروں پر- مذکورہ بالا سطور میں باجی مظفر کے جو غیر شرعی اقوال نقل کئے گئے ہیں ان میں بعض ضلالت و جہالت پر مبنی ہیں اور بعض کفریہ ہیں مثلا شریعت اور ارباب شریعت کی توہین کرنا اور احکام شرعیہ کو ماننے سے انکار کرنا اس لیے مذکور جعلی پیر پر لازم ہے کہ فورا اپنے ان اقوال سے رجوع کرے سچے دل سے توبہ واستغفار کرے اور تجدید ایمان کے ساتھ تجدید نکاح وتجدید بیعت بھی کرے اور یہی حکم اس سرپنچ کا بھی ہے جو علما کو چھوڑ کر اس جاہل پیر سے مسائل پوچھتا ہے اور اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور پھر اس آڈیو کلپ کو جس میں شریعت وارباب شریعت کی سخت توہین کی گئی ہے سوشل میڈیا پر وائرل کرتا ہے جب تک یہ اپنے اقوال باطلہ سے علانیہ توبہ واستغفار ورجوع اور تجدید ایمان وتجدید نکاح نہ کرلیں اور علمائے دین سے معافی نہ مانگ لیں مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کریں نہ تو ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور نہ نشست وبرخاست رکھیں- واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر ۲۳/ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۴/جون ۲۰۲۲ء الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد اختر حسین قادری غفرلہ خادم افتاودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ۵/ذی الحجہ ۱۴۴۳ھ الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh