صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1824 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,133

سوال (Question):

بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ سوال۔ ایک مدرسے میں پڑھنے والا طالب علم بالغ ہے پر اس کی داڑھی نہیں جمی ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ سائل: عادل رضا قادری الجواب بعون الملک الوھاب کرسکتا ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو‌۔ ہاں اگر وہ خوبصورت محل فتنہ ہو ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں بلوغ درکار ہے ” اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٦, ص٣٨٩, کتاب الصلاۃ, باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور آپ علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا”ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھو ابن ستۃ عشر سنۃ(کیا سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے)؟“ جواباً تحریر فرمایا:”نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعا و ان لم تظھر الاثار، نعم تکرہ ان کان صبیحا محل الفتنۃ کما فی رد المحتار عن الرحمتی(ہاں جائز ہے اگر کوئی مانعِ شرعی نہ ہو کیونکہ شرعا وہ بالغ ہے اگرچہ بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر وہ خوبصورت محلِ فتنہ ہو تو مکروہ(تنزیہی)ہو گی جیسا کہ رد المحتار میں علامہ رحمتی کے حوالے سے ہے)۔“ اھ (فتاویٰ رضویہ،ج٦, ص٦١٢, کتاب الصلاۃ باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh